سندھ حکومت کو 2ماہ میں سرکاری گھرغیرقانونی مکینوں سے خالی کرانے کا حکم

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے سندھ حکومت کو2 ماہ میں سرکاری...
شائع 21 اگست 2020 11:14am

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے سندھ حکومت کو2 ماہ میں سرکاری گھرغیرقانونی مکینوں سے خالی کرانے کا حکم دیتے ہوئے عملدرآمد رپورٹ طلب کرلی،چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آئندہ سماعت پر سی ڈی اے کے کوارٹرز پر اسلام آباد پولیس کے قبضے کا معاملہ دیکھیں گے۔

چیف جسٹس گلزاراحمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 2رکنی بینچ نے سرکاری گھروں کی غیرقانونی الاٹمنٹ پر از خود نوٹس کی سماعت کی،عدالت نے سندھ حکومت کو2ماہ میں سرکاری گھرخالی کرانےکاحکم دے دیا۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بتایا کہ سندھ کے 229 سرکاری گھروں پر غیرقانونی قبضہ ہے، کورونا وباء کی وجہ سے گھرخالی کرانے کا عمل روک دیا تھا ۔

عدالت نے سندھ میں غیر قانونی الاٹمنٹ منسوخ کر کے میرٹ پرالاٹمنٹ کا حکم دیتے ہوئے سندھ حکومت سےعملدرآمدرپورٹ بھی طلب کرلی۔

سی ڈی اے کے وکیل نے بتایاکہ آئی جی اسلام آباد کا گھر بھی غیرقانونی طورپرالاٹ ہوا،اسلام آباد پولیس سی ڈی اے کے 200 کوارٹرز پر قابض ہے، مذاکرات ہوئے لیکن پولیس قبضہ چھوڑنے کیلئے تیار نہیں ۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اسلام آباد کی صرف 4 سرکاری رہائش گاہیں واگزار نہیں ہو سکیں، چاروں کے کیسز عدالتوں میں زیرالتوا ءہیں۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ آئندہ سماعت پر سی ڈی اے کے کوارٹرز پر وفاقی پولیس کے قبضے کا معاملہ بھی دیکھیں گے۔

بعدازاں سپریم کورٹ نے سرکاری گھروں کی غیرقانونی الاٹمنٹ پرازخود نوٹس کی سماعت 2ماہ کیلئے ملتوی کردی۔