لاوارث کراچی کے دروغ گو حکمران
کراچی کا نہ کل تھا کوئی نہ ہی آج کوئی کراچی میں نظر آیا۔ عوام کی خدمت کے دعوے کرنے والے عوامی نمائندے آج کہیں دکھائی نہ دیے۔ سڑکوں پر بہتے پانی میں عوام رلتے رہے۔
سمندر کی لہروں کی طرح بہتا پانی شہر کے پوش علاقوں کی ہے یہ کہانی۔
عوام کی مشکلات کو حل کرنے کیلیے کوئی نہیں صاحب۔ یہاں کوئی نہیں۔ نام نہاد عوام کے نمائندے، بس نام کی حد تک ہیں۔ کام کرنے کیلیے یہاں کوئی نہیں۔
کہاں ہیں وزیراعلیٰ؟ کہاں ہیں میئر کراچی؟ کہاں ہیں صوبائی اور وفاقی وزرا جو کمیٹیاں بنا رہے تھے؟
باتیں تو خوب ہوتی رہیں مگر آج سڑک پر بہتے پانی میں ڈوبی عوام کے سوا کوئی عوامی نمائندہ نظرنہ آیا۔
وہی نالے جن کی صفائی کیلیے این ڈی ایم اے آیا تھا، یہ وہی نالے ہیں جن پر سب نےاپنا کارنامہ گنوایا تھا؟
آج یہی نالے بارش کے پانی میں پھر بپھر رہے ہیں، لوگوں کے گھر پانی سے بھرے ہیں۔
ان کا مداوا کون کرے گا؟ کراچی کا وارث کون بنے گا؟
سیاست دانوں کی سیاست نے قائد کے شہر کو کہیں کہ نہ چھوڑا۔

















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔