بلاول کراچی والوں کیلئے اتنے پریشان ہوئے کہ بلاول ہاؤس سے نکلنا گوارا نہ کیا
گزشتہ روز بارش میں کراچی ڈوبا تو سیاسی رہنماؤں کو تین کروڑ شہریوں کےدرد نے ستایا، بلاول بھٹو اتنے پریشان ہوئے کہ بلاول ہاؤس سے نکلنا گوارا نہ کیا، وہیں اجلاس طلب کرتے ہوئے کہا، پیپلزپارٹی نے کراچی کو مثالی ترقی دی، ایم کیوایم کو شہری بارش کے پانی میں تلاش کرتے رہے۔
بلاول کو شہر کی تباہی سے زیادہ کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے پر فکرمند دکھائی دیئے۔
بلاول نے کہا، سندھ حکومت نےکراچی کو بہت زیادہ ترقی دی۔
یہ شرمندگی تھی یا کچھ اور کہ ترجمان سندھ حکومت مرتضی وباب کراچی کی بجائے، لاہور پر بات کرنے کے خواہش مند دکھائی دیئے۔
مصطفی کمال نے بھی بارش کےدوران سندھ حکومت کو للکارا۔
دوسری جانب ایم کیوایم کو شہری بارش کے پانی میں ڈھونڈتے رہے، جو بارش میں بھیگی ایک ایسی بلی ثابت ہوئے جس نے چپ سادھ لینے میں عافیت جانی، میئر کراچی وسیم اختیر کا ایک نحیف سا بیان ضرورسامنے آیا۔
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ بھی شہر کے دورے پر نکلے، لیکن ایسی جگہوں پر گئے جہاں سب اچھا تھا۔
سیاسی جماعتوں کے مگرمچھ کے آنسو اپنی جگہ، بے بس شہریوں کا کہنا ہے، کسے وکیل کریں کسے منصفی چاہیں۔
سیاسی منظرنامے سےہٹ کر لوگوں نے این ڈی ایم اے کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھا دیئے، گجرنالہ بارش میں دوسری مرتبہ پھر اوور فلو ہوگیا۔
بارش کے بیس منٹ بعد ہی گجرنالے سے محلقہ علاقے بند ہوگئے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ کراچی سونے کا انڈہ دینے والی ایک ایسی مرغی بن چکی ہے، جس کا قیمت تو سب وصول کرنا چاہتے ہیں لیکن اس کی دیکھ بھال کرنے کو کوئی تیار نہیں۔

















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔