'کرائے کے ٹٹو کہتے ہیں کہ سندھ خطرے میں ہے'
ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما خواجہ اظہار الحسن کہتے ہیں دو چار لوگ دو اینٹ کی مسجد بناکر تقسیم کا تاثر دے رہے ہیں لیکن ایم کیو ایم آج بھی منظم ہے۔
ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماخواجہ اظہار الحسن نے پریس کلب کے باہر حیسکو کے خلاف دھرنے میں شرکاء سے خطاب میں کہا لوگوں نے سوچا کہ ایم کیو ایم بنٹ گئی اور اب آواز نہیں اٹھاسکتی ۔ دو چار لوگ دو اینٹ کی مسجد بناکر تقسیم کا تاثر دے رہے ہیں لیکن ایم کیو ایم آج بھی منظم ہے۔فرق اب صرف اتنا ہے کہ ہم نے اب پہل کرنا چھوڑ دی ہے۔
انہوں نے کہا ایم کیو ایم پر بولنے والے پدی کے شوربوں کو لگ پتہ جائیگا۔ہمیں دھمکی دی تو ہمارے منہ میں زبان بھی ہے اور دونوں ہاتھ اسی طرح ہیں۔
ان کاکہنا تھا کہ جعلی ڈومیسائل بناکر لاکھوں نوکریاں دی ہیں ۔ایک گریڈ تا 15 گریڈ مقامی شہر کے بچوں کا ملازمت پر حق ہے ۔کرائے کے ٹٹو کہتے ہیں کہ سندھ خطرے میں ہے۔ ہمارے ٹیکسز کا پیسہ سندھ کے تمام شہروں پر لگنا چاہیئے۔ سندھ کو خطرہ حکومت کی پالیسیوں سے ہے۔سندھ کو خطرہ مراد علی شاہ کی پالیسیوں سے ہے۔

















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔