نواز شریف برطانیہ اور ڈاکٹر امریکا میں ہیں،کیازبانی علاج ہورہا ہے؟اسلام آباد ہائیکورٹ

اسلام آباد ہائیکورٹ نے العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں ریمارکس...
شائع 10 ستمبر 2020 03:02pm

اسلام آباد ہائیکورٹ نے العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں ریمارکس دیئےکہ نواز شریف برطانیہ اور ڈاکٹر امریکا میں ہیں،کیا زبانی علاج ہورہا ہے؟قانون کے مطابق اشتہاری ملزم کا سرینڈرکرنا ضروری ہے،نواز شریف اس وقت ضمانت پر نہیں ہیں،ضمانت کا وقت بھی ختم ہوگیا،انہیں سرینڈر کرنے کا موقع دیا تھا لیکن وہ نہیں آئے۔

نوازشریف کی مشکل آسان نہیں ہوئی، عدالت نے مزید مہلت دے دی،اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق اورجسٹس محسن اخترکیانی پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے العزیزیہ اسٹیل ملزریفرنس میں سابق وزیراعظم نوازشریف کی سزا کیخلاف اپیل پرسماعت کی۔

جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا نوازشریف کواشتہاری قراردے دیا گیا ؟اشتہاری قراردینے پرعدالتوں میں زیرالتوا ءدرخواستوں پرکیا اثرات ہوں گے۔

نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث نے کارروائیوں پراثرنہ ہونے کا بتایا نیب نے مؤقف اپنایاکہ توشہ خانہ ریفرنس میں اشتہاری ہونے کے بعد نوازشریف کوکوئی ریلیف نہیں مل سکتا ۔

سماعت کے دوران مختلف کیسزکے حوالے دیئے گئے ،عدالت نے کہاکہ پرویزمشرف کیس میں عدالت قراردے چکی مفرورکوسرنڈرسے قبل نہیں سنا جاسکتا۔

عدالت نے استفسار کیا کہ کیا نوازشریف کسی اسپتال میں زیرعلاج ہیں؟ جس پر خواجہ حارث نے بتایا کہ نواز شریف کسی اسپتال میں زیرعلاج نہیں۔

جسٹس محسن اخترکیانی نے ریمارکس دیئے پچھلے چھ سات ماہ سے نوازشریف لندن کے کسی اسپتال داخل نہیں ہوئےاگروہ اسپتال داخل ہوتے توپھرتوبات سمجھ آتی ، نوازشریف برطانیہ اور ڈاکٹرامریکا میں ہیں، کیا زبانی علاج کیاجارہا ہے، جس ڈاکٹرکا سرٹیفیکٹ لگایا وہ امریکامیں ہےاورنوازشریف لندن میں۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے نوازشریف کی میڈیکل رپورٹس کو نامکمل قراردیتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت نوازشریف کی ضمانت مسترد کرچکی ہے، علاج کی کوئی تصدیق نہیں کی کیونکہ علاج ہوا ہی نہیں ۔

اسلام آبادہائیکورٹ نے کہا کہ وفاقی حکومت نے اس بات کی تصدیق کرنے کی زحمت ہی نہیں کی۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیئے کہ قانون کے مطابق اشتہاری ملزم کا سرینڈرکرنا ضروری ہے ،اگر نواز شریف اسپتال میں داخل نہیں تو حکومت نے یہ جاننے اور انہیں واپس لانے کی کوشش کیوں نہیں کی،تفصیلی فیصلہ جاری کریں گے۔

جسٹس عامرفاروق نے کہا کہ نوازشریف اس وقت ضمانت پر نہیں ہیں،ضمانت کا وقت بھی ختم ہوگیا ،عدالت نے انہیں سرنڈر کا موقع دیا تھا لیکن وہ نہیں آئے، وارنٹ کا آرڈر نہیں کر رہے نوازشریف کی درخواست سنی جاسکتی ہے یا نہیں؟نوازشریف توشہ خانہ کیس میں مفرور اور اشتہاری ہونے کے بعد ریلیف کے مستحق ہیں یا نہیں؟ ۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم کے وکیل خواجہ حارث سے دلائل طلب کرتےہوئے العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت 15 ستمبر تک ملتوی کردی۔