Aaj TV News

COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 326,216 736
DEATHS 6,715 13

اسلام آباد ہائیکورٹ نے سانحہ تیز گام کی شفاف تحقیقات اور معاوضہ ادائیگی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ اگر کنڈکٹ کو دیکھیں تو ملک کے سارے وزیروں کواستعفیٰ دینا پڑیگا، اب اخلاقیات کا معیار اتنا ہائی نہیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے سانحہ تیزگام کی شفاف تحقیقات کیلئے دائردرخواست کی سماعت کی۔

دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ اگروزیرریلوےکاکنڈکٹ دیکھیں توان کااستعفیٰ توبنتا ہے؟۔

جس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیئے کہ اگر کنڈکٹ کو دیکھیں تو ملک کے سارے وزیروں کواستعفیٰ دینا پڑےگا، اب اخلاقیات کا معیار اتنا ہائی نہیں۔

وکیل وزارت ریلوےنے کہا کہ جن کےڈی این اےمیچ ہوئےانہیں ہم نےادائیگی کردی،ریلوےنے ان سب کی ادائیگی کر دی جن کا معاوضہ بنتا تھا، سانحہ کاکوئی ایسازخمی نہیں جس کومعاوضہ فراہم نہ کیاگیا ہو،اسکینرزلگےہیں کسی کوغیرمتعلقہ چیزیں لےجانےکی اجازت نہیں۔

درخواست گزارنے آزادانہ تحقیقات کے حکم کی استدعا کی ،جس پرجسٹس محسن اختر کیانی نے موٹروے سانحے کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ اس میں احتیاط برتنی چاہیئے جو چیزیں جس طرح ہائی لائٹ ہوتی ہیں اس سے مسائل پیدا ہوتے ہیں ،موٹروے سانحے پر بھی تمام تفتیش میڈیا پرہی ہو رہی ہے، ہرکوئی تفتیشی بنا ہوا ہے، جس کا کام ہے اسی کو سونپا جائے تو بہتر ہے۔

سانحہ تیزگام سے متعلق وزارت داخلہ اور ریلوے نے تحقیقاتی رپورٹس اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش کردی ،جس میں 15افراد کوسانحے کاذمہ دار قرار دیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ تمام ذمہ داران کیخلاف ضابطے کی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔

رپورٹ میں ڈپٹی ڈویژنل سپرنٹنڈنٹ کراچی، ڈویژنل کمرشل آفیسر کراچی، ایس ایچ او حیدر آباد اور خانپور غفلت کے مرتکب پائے گئے جبکہ ریزرویشن سپروائزر قمر شاہ پر بھی بے ضابطگی کی ذمہ داری عائد کی گئی ہے، 5 ہیڈ کانسٹیبلز کو سانحے کابراہ راست ذمہ دار قرار دیا گیا ہے، اس کے علاوہ ایک تبلیغی جماعت کا رکن اور 2 پرائیویٹ ویٹرز سانحے کے براہ راست ذمہ دار قرار دیئے گئے ہیں۔

جس پر جسٹس محسن اخترکیانی نے ریمارکس دیئے کہ وزارت داخلہ اور ریلوے الگ الگ انکوائری کر رہے ہیں، ایک کیس کی دوسری ایف آئی آر کیسے ہوسکتی ہے، ان حالات میں کیا کمیشن کی تشکیل کا حکم دیا جا سکتا ہے؟ ۔

بعدازاں اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر کیس کا فیصلہ محفوظ کر لیا۔