Aaj TV News

COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 326,216 736
DEATHS 6,715 13

پاکستان میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے وفاقی وزیر فواد چوہدری کی جانب سے اتوار کو ایک ویڈیو شیئر کیے جانے کے بعد سوشل میڈیا پر ان سے متعلق تند و تلخ گفتگو شروع ہوگئی۔

فواد چوہدری نے جو ویڈیو ری ٹویٹ کی تھی اس میں ایک خاتون صحافی راہ گیروں سے بڑھتے ہوئے ریپ کیسز کے بارے میں سوالات پوچھ رہی ہیں۔ جب وہ ایک شخص کو چیلنج کرتی ہیں جو خواتین کے ساتھ زیادتی کے واقعات کی ذمہ داری ’نامناسب لباس‘ کو قرار دیتے ہیں تو دونوں کے درمیان سوال و جواب میں لہجہ تُند ہو جاتا ہے اور تلخی کی حدود کو چھونے لگتا ہے۔

ویڈیو ری شئیر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے خاتون صحافی کو نہ صرف شاباش کہا بلکہ انھیں دلیر لڑکی کہہ کر پکارا۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ خاتون صحافی ہاتھ میں مائیک تھامے سڑک کنارے چلتے چلتے سفید شلوار قمیض میں ملبوس ایک باریش شخص کے پاس جاتی ہیں اور سوال پوچھتی ہیں کہ ’ریپ کیسز میں دن بدن اضافے سے متعلق آپ کیا کہنا چاہیں گے؟"

جواب میں وہ صاحب (خاتون کے لباس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) کہتے ہیں کہ ’اگر میں سچ بتاؤں تو جس حلیے میں عوام باہر پھرتے ہیں ایسے حالات میں تو ریپ ہی ہوں گے‘۔

اس جواب پر خاتون صحافی غصے میں پلٹ کر سوال پوچھتی ہیں کہ ’میرے حلیے میں آخر ایسی کیا برائی ہے ؟ کیا مسئلہ ہے اس لباس میں؟‘ اس کے جواب میں وہ صاحب معاشرے میں خواتین کے پہناوے، سکرٹ اور ڈراموں کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’سکرٹ اور ٹائٹس پہننا ریپ کیسز کی وجوہات بن رہے ہیں جس کی ذمہ دار خواتین خود ہیں۔‘

وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’آپ جا کر تعلیمی اداروں میں چیک کر سکتی ہیں اور ہمارے ڈراموں میں بھی یہی دکھایا جا رہا ہے۔‘

تکرار بڑھتے ہی وہ صاحب مائیک کو ہٹاتے ہوئے چلنا شروع کردیتے ہیں مگر خاتون صحافی خاموش نہیں رہتیں اور سوالات کرتی نظر آتی ہیں۔ ’چلیں مانا کہ خواتین ہی اس سب کی قصور وار ہیں مگر مجھے صرف یہ بتاتے جائیں کہ ڈیڑھ سال کی بچی کا کیا قصور ہے؟ ڈھائی سال کی بچی نے کونسا سکرٹ پہن رکھی ہوتا ہے؟ دو دن کی بچی نے بھی کیا خراب لباس پہنا ہوگا؟

یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہی کئی صارفین اینکر پرسن کی ’بہادری اور حوصلے‘ کی داد دے رہے ہیں۔

اس حوالے سے بات کرتے ہوئے ٹوئٹر صارف عائشہ نے لکھا کہ ’یہ صاحب دلیل سے بات نہیں کرسکے۔ انھوں نے کیوں نہیں جواب دیا کہ 4 سال کی بچی کے لباس میں کیا برائی ہوتی ہے؟ الٹا بدتمیزی شروع کر دی۔ بات ٹھیک ہو سکتی ہے مگر بھرے بازار میں عورت سے بات کرنے کا یہ طریقہ ہے کیا؟

ٹوئٹر صارف نصیر کا کہنا تھا کہ ’یہ کسی مذہبی شخص سے متعلق نہیں ہے بلکہ ہمارے ہاں کئی آزاد خیال لوگ بھی ایسی سوچ رکھتے ہیں اس کی بنیادی وجہ تعلیم اور شعور کی کمی ہے۔‘

کئی صارفین نے اس ویڈیو کو ری ٹویٹ کرنے اور خاتون کی تعریف کرنے پر وفاقی وزیر کو آڑے ہاتھوں لیا اور انھیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

ان صارفین کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیر بے راہ روی کے کلچر کو پروان چڑھانے والی باتیں کر رہے ہیں۔ اکثر صارفین کے مطابق انھوں نے پی ٹی آئی کو اس لیے ووٹ نہیں دیا تھا کہ ایک وزیر ایسی ’بے ہودہ‘ باتوں کی حوصلہ افزائی کریں۔

انھوں نے یہاں تک کہا کہ وزیر موصوف وزیرِاعظم عمران خان کے لیے نقصان دہ ہیں۔

ٹوئٹر استعمال کرنے والے اکثر صارفین نے خاتون صحافی پر بھی تنقید کی اور کہا کہ انھوں نے اپنے مخاطب کی بات سننے کے بجائے اپنی رائے دینا شروع کر دی اور مکمل جواب سننے سے پہلے الٹا سوالات کرنا شروع کر دیے۔

ان صارفین نے میڈیا کو بھی اپنے غصے کا نشانہ بنایا اور کہا کہ معاشرتی خرابیوں کی ذمہ داری میڈیا پر بھی عائد ہوتی ہے۔