Aaj TV News

BR100 4,112 Decreased By ▼ -52 (-1.26%)
BR30 20,622 Decreased By ▼ -321 (-1.53%)
KSE100 39,633 Decreased By ▼ -555 (-1.38%)
KSE30 16,693 Decreased By ▼ -210 (-1.24%)

اسلام آباد:سپریم کورٹ آف پاکستان نے نیب ملزمان کی طویل حراست کا نوٹس لے لیا ، عدالت کا کہنا ہے کہ نیب مقدمات میں ملزمان کو طویل عرصہ حراست میں رکھنا نا انصافی ہوگی۔

سپریم کورٹ نے نیب ملزمان کی طویل حراست کا نوٹس ڈائریکٹر فوڈ پنجاب محمد اجمل کی درخواست ضمانت پر سماعت کے دوران لیا۔

کیس کی سماعت جسٹس عمر عطاء بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 2رکنی بینچ نے کی۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ نیب مقدمات میں ملزمان کو طویل عرصہ حراست میں رکھنا ناانصافی ہوگی ،ملزمان سے معاشرے یا ٹرائل پر اثرانداز ہونے کا خطرہ ہو تو ہی گرفتار رکھا جا سکتا ہے، پرتشدد ،فوجداری اور وائٹ کالر کرائم کے ملزمان میں فرق کرنا ہوگا،نیب ملزمان کے کنڈکٹ کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔

عدالت نے احتساب عدالت لاہور سے ٹرائل میں تاخیر کی وجوہات مانگتے ہوئے کہا ہے کہ آگاہ کیا جائے استغاثہ کے تمام 38 گواہان کے بیان کب تک ریکارڈ ہوں گے،بتایا جائے عام طور پر نیب مقدمات میں تاخیر کیوں ہوتی ہے؟۔

جسٹس عمر عطاء بندیال نے ریمارکس دیئے کہ ملزمان کو گرفتار کرنے کے علاوہ دوسرے طریقے بھی استعمال ہو سکتے ہیں، ملزمان کے پاسپورٹ ،بینک اکاؤنٹس اور جائیداد کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔

جسٹس یحیٰ آفریدی نے کہا کہ حالیہ عدالتی فیصلے پر نیب کو عمل کرنا ہوگا،نیب کو روزانہ کی بنیاد پر سماعت پر اعتراض ہے تو نظرثانی دائر کرے۔ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ روزانہ کی بنیاد پر ٹرائل کے فیصلے پر خوش ہیں، نیب بھی چاہتا ہے کہ مقدمات جلد ختم ہوں۔

سپریم کورٹ نے احتساب عدالت سے نومبر کے تیسرے ہفتے تک رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔