Aaj TV News

BR100 4,112 Decreased By ▼ -52 (-1.26%)
BR30 20,622 Decreased By ▼ -321 (-1.53%)
KSE100 39,633 Decreased By ▼ -555 (-1.38%)
KSE30 16,693 Decreased By ▼ -210 (-1.24%)

سپریم کورٹ نے صدارتی ریفرنس کیخلاف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سمیت دیگر درخواستوں کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔

تفصیلی فیصلے میں صدارتی ریفرنس کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ لندن جائیدادوں کا جسٹس قائض عیسیٰ سے کوئی تعلق نہیں، صدر مملکت نے ریفرنس میں متعدد قانونی اور طریقہ کار کی غلطیوں کو نظر انداز کیا، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے اہل خانہ کے اثاثوں کی تحقیقات کی منظوری صدر مملکت کی بجائے وزیر قانون سے لی گئی۔

فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ جسٹس فائز عیسی کیخلاف ریفرنس بدنیتی پر مبنی قرار نہیں دیا جاسکتا، ریفرنس فیض آباد دھرنا کیس نہیں، لندن جائیدادوں کی بنیاد پر بنا، لندن جائیدادوں کا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ سے کوئی تعلق نہیں۔ کوئی شق نہیں کہ ججز کیخلاف ریفرنس کو خفیہ رکھنا چاہیے۔

فیصلے میں قراردیا گیا صدر مملکت نے ریفرنس کے قانونی نکات پر کسی تیسرے فریق سے رائے نہیں لی، صدر ریفرنس میں موجود قانونی اور دیگر نقائص کو پہچاننے میں ناکام رہے۔ ریفرنس کے مواد کی تحقیق کرنے والے صدر مملکت کو بریفنگ دے سکتے ہیں مگر مشورہ نہیں۔

عدالت نے قرار دیا فیض آباد دھرنا کیس میں نظرثانی درخواستوں کو بدنیتی کے شواہد کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا، فیصلوں کیخلاف نظرثانی درخواستیں دائر کرنا آئینی و قانونی حق ہے۔ شہزاد اکبر کی تعیناتی غیر قانونی نہیں دی جا سکتی۔ اثاثہ جات ریکوری یونٹ کی تشکیل میں بڑی قانونی خامی نہیں۔ یہ بھی واضح کیا جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جاسوسی شواہد سے ثابت نہیں ہو سکی۔

تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ سابق وزیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے درخواست گزار کیخلاف توہین آمیز ریمارکس دیے، عدالت اس بات پر قائل ہے فردوس عاشق اعوان نے تیس مئی کی پریس کانفرنس سیاسی فائدے کیلئے کی، بادی النظر میں سابق وزیر اطلاعات نے معزز جج کا مزاق اڑایا، بادی النظر میں توہین عدالت قانون کی خلاف ورزی کرنے پر فردوس عاشق اعوان کو جواب دہ ہونا چاہیے۔