دلچسپ صورتحال: مریم نواز کا شہباز گِل کو پہچاننے سے انکار
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مرکزی نائب صدر مریم نواز شریف نے وزیراعظم کے معاون ڈاکٹر شہبازگل کو پہچاننے سے ہی انکار کردیا اور استفسار کیا کہ شہباز گل کون ہے؟
گزشتہ روز مریم نواز لاہور سے کوئٹہ پہنچیں تو صحافیوں نے ان سے سوال کیا کہ ڈاکٹر شہبازگل نے بیان دیا ہے کہ مریم نواز کی ضمانت اس لیے ہوئی تھی کہ وہ والد کی دیکھ بھال کرسکیں۔ اس پر مریم نواز نے پوچھا کہ کس نے کہا ہے یہ؟ جواب ملا شہباز گل، تو انہوں نے پھر پوچھا کہ یہ کون صاحب ہیں؟ میں نہیں جانتی۔
نوازشریف کے خطاب سے متعلق سوال پر مریم کا کہناتھاکہ " بالکل ، انشاء اللہ خطاب کریں گے "۔
بعدازاں مریم نواز کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم کے جلسے کے موقع پر کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آیا تو اس کی ذمہ داری حکومت وقت پر عائد ہوگی، عوام کی جان ومال کا تحفظ حکومت کا اولین فرض ہے۔
25 اکتوبر کے جلسے سے قبل تھریٹس الرٹ سے متعلق پوچھے گئے سوال پر مریم نواز کا کہنا تھا کہ عوام کی جان ومال کی حفاظت حکومت اور ریاستی اداروں کی اولین ذمہ داری ہے، اس کا کیا مطلب ہے کہ جلسہ کینسل کردیں، کیا جلسہ کینسل کرنے سے تھریٹس ختم ہوجائیں گے؟ یہ کیا بات ہوئی ہے کہ جلسہ نہیں ہوگا تو تھریٹس نہیں ہوںگی اور اگر جلسہ ہوگا تو ہم سوچیں گے۔ سیاسی قائدین اور ورکرز کی حفاظت کی ذمہ داری حکومت کی ہے اگر 25 اکتوبر کے جلسے یا اس سے قبل اور بعد میں کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش آتا ہے تو اس کی ذمہ داری حکومت وقت پر عائد ہوگی ۔
واضح رہے کہ بلوچستان میں سیکیورٹی خدشات کے باعث کوئٹہ میں دفعہ 144نافذ کردی گئی جبکہ موٹرسائیکل کی ڈبل سواری پر بھی پابندی ہوگی۔
چیف سیکریٹری بلوچستان کہتے ہیں عوام کی جان و مال کے تحفظ کیلیے اقدامات کر رہےہیں، پی ڈی ایم کے جلسے کے تحفظ کیلیے کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔
چیف سیکریٹری بلوچستان نے حکام کو ہدایت کی کہ نیکٹا کی طرف سے جاری تھریٹ کو سنجیدگی سے لیا جائے۔
















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔