گلگت بلتستان میں بڑے بڑے دعوے، لیکن اپنے صوبوں کی حالت زار
گلگت بلتستان میں کون حکومت بنائے گا؟ کس کی ہوگی جیت، فیصلہ کل ہوگا۔
پی ٹی آئی، پیپلزپارٹی اور ن لیگ میں سخت مقابلہ متوقع ہے۔ پولنگ اسٹیشنز پر سامان کی ترسیل بھی جاری ہے۔
گلگت بلتستان کے الیکشن میں سیاست دانوں نے عوام سے ووٹ لینے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا، عوام کے مسائل حل کرنے کیلئے بڑے بڑے دعوے بھی کیے۔
لیکن سندھ میں حکمراں جماعت پیپلز پارٹی اور وفاق اور تین صوبوں میں حکمراں جماعت عوام کو اب تک کیا ریلیف دے سکے ہیں؟
بلاول بھٹو زرداری نے گلگت بلتستان جاکر دعوے تو بہت کئے لیکن سندھ کی حالت زار وہ بھول گئے، جہاں ان کی جماعت مسلسل تیرہ برسوں سے برسراقتدار ہے۔
ٹھٹھہ کے علاقے گھارو میں زیر تعمیر گرلز کالج کا سنگ بنیاد سسی پلیجو نے دو ہزار نو میں رکھا تھا لیکن آج تک یہ کالج نہیں بن سکا۔
اسی طرح کندھ کوٹ میں ڈی ایچ کیو اسپتال کا منصوبہ بھی سات برسوں سے زیر التوا ہے۔
یہ تو صرف دو منصوبے ہیں ایسے درجنوں منصوبے برسوں سے سندھ میں زیر التوا ہیں، لیکن گلگت بلتستان میں عوام سے وعدے کرتے ہوئے بلاول یہ بھول گئے کہ ان کے اپنے صوبے کا کیا حال ہے۔
وفاقی حکومت کے وزیر جو گلا پھاڑ پھاڑ کر گلگت بلتستان کے عوام سے ووٹ مانگ رہے ہیں، لیکن ان کی حکومت کو جہلم میں دریا کنارے گند نظر نہیں آتا، جہاں ایک ارب ساٹھ کروڑ روپے کی لاگت سے حفاظتی بند تو بنایا گیا لیکن سیوریج کے پانی کو راستہ دینے کے لیے کوئی انتظام نہیں کیا گیا، اب یہ آلودہ پانی مچھروں کی افزائش گاہ ہے۔
مریم نواز بھی ووٹ کو عزت دو کا نعرہ بلند کرتی گلگت بلتستان کے پہاڑوں پر معرکہ سر کرنے نکلیں، لیکن کیا ان کے پاس اس بات کا کوئی جواب ہے کہ تین ادوار تک ان کی جماعت بھی ملک پر حکمران رہی ہے لیکن کوئی ایک اسپتال بھی ایسی نہیں بنا سکی جہاں ان کے ابو کا علاج ہوسکتا اور انہیں بیرون ملک نہ جانا پڑتا۔
















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔