Aaj TV News

BR100 4,855 Increased By ▲ 19 (0.39%)
BR30 24,780 Increased By ▲ 335 (1.37%)
KSE100 45,903 Increased By ▲ 177 (0.39%)
KSE30 19,153 Increased By ▲ 133 (0.7%)

اسلام آباد:سپریم کورٹ نے بلین ٹری سونامی کا تمام ریکارڈ طلب کرلیا اورسیکرٹری وزارت موسمیاتی تبدیلی کو بھی حاضرہونے کے احکامات جاری کردیئے، چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ سندھ کے معاملات اور طرح چلتے ہیں ،اسلام آباد میں نااہل اسٹاف رکھا ہوا ۔

چیف جسٹس گلزاراحمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 2رکنی بینچ نے دریاؤں اور نہروں کے کنارے درخت لگانے سے متعلق کیس کی سماعت کی۔

چیف جسٹس نے سندھ حکومت کی جانب سے جھیلوں اور شاہراوں کے اطراف درخت لگانے کی رپورٹ نہ آنے پر اظہار برہمی کیا ۔

چیف جسٹس آف پاکستان گلزار احمد ریمارکس دیئے کہ سندھ کے معاملات اور طرح چلتے ہیں ،اسلام آباد میں نااہل اسٹاف رکھا ہوا ،کہیں پرکوئی درخت نہیں لگایا گیا، سیکرٹری ایری گیشن سندھ اور ماحولیات کا عملہ اسلام آباد میں سیرکرنے آتا ہے ، افسران کو ایک روپیہ بھی ٹی اے ڈی اے نہیں ملے گا۔

چیف جسٹس نے مزید کہاکہ غیر حاضر افسران کو توہین عدالت نوٹس جاری کرتے ہیں سیکرٹری جنگلات اور ایری گیشن سندھ کے لوگ جیل جائیں گے اور نوکری سے بھی۔

سیکریٹری جنگلات سندھ نے معافی کی استدعا کی،جس پر عدالت نے 2 ہفتوں میں رپورٹ طلب کرلی۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے ڈی جی ماحولیات سے اسلام آباد سے متعلق پوچھا کہ 5 لاکھ درخت کہاں لگائے گئے کوئی تفصیل نہیں ، سوچے سمجھے بغیر درخت لگائے پھر کہتے پولن کا باعث بنتے۔

چیف جسٹس نے سیکرٹری جنگلات پنجاب سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ اسلام آباد سے کراچی تک دریاؤں کے کنارے کوئی درخت نہیں، پنجاب حکومت کیخلاف توہین عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہیں۔

جسٹس گلزاراحمد نے مزیدریمارکس دیئے کہ کے پی میں لاکھوں درخت کاٹے جاتے ہیں، ناران کاغان کچرا بن گیا ،کمراٹ ،نتھا گلی اورمالم جبہ کہیں درخت نہیں ، کے پی کا بلین ٹری سونامی کہاں ہے؟،خیبرپختونخوا محکمہ جنگلات کا سارا عملہ چو رہے، بلوچستان نے تو درخت لگانے ہی نہیں۔

ایڈووکیٹ جنرل کے پی نے بتایاکہ ٹوٹل73 لاکھ درخت لگائے،3 کروڑ 90 لاکھ لگانے کا پلان ہے۔

بلوچستان سے متعلق چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کوئٹہ میں مردار کے پہاڑوں کو درخت لگا کرجاندار بنائیں۔

سپریم کورٹ نے بلین ٹری سونامی کا تمام ریکارڈ طلب کرلیا اورسیکرٹری وزارت موسمیاتی تبدیلی کو بھی حاضرہونے کے احکامات جاری کردیئے۔