Aaj TV News

BR100 4,820 Decreased By ▼ -32 (-0.66%)
BR30 25,669 Decreased By ▼ -3 (-0.01%)
KSE100 44,978 Decreased By ▼ -208 (-0.46%)
KSE30 18,443 Decreased By ▼ -42 (-0.23%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 725,602 4584
DEATHS 15,501 58
Sindh 269,126 Cases
Punjab 250,459 Cases
Balochistan 20,321 Cases
Islamabad 66,380 Cases
KP 99,595 Cases

اگرچہ کورونا وائرس کی ویکسینز تیار ہو چکی ہیں، تاہم ماہرین اب بھی ویکسین کی تیاری کے نئے طریقوں کی کھوج میں لگے ہوئے ہیں۔

انہی کوششوں میں اب امریکی سائنس دانوں نے سانپ کے ذریعے ویکسین تیار کرنے کا ایک طریقہ دریافت کر لیا ہے۔

میل آن لائن کے مطابق سائنس دانوں نے امریکی ریاست فلوریڈا کے جنگلات میں پائے جانے والے برمی اژدھے میں ایک ایسا کمپاﺅنڈ دریافت کرلیا ہے جو کورونا وائرس کی ویکسین میں بھی پایا جاتا ہے۔ اس کمپاﺅنڈ کا نام ’Squalene‘ ہے۔

یہ کمپاﺅنڈ تیل کی طرح کا ایک قدرتی مادہ ہے۔ کمرشل پیمانے پر یہ مچھلی کے تیل سے کشید کیا جاتا ہے۔ یہ بالخصوص شارک مچھلی کے جگر میں پایا جاتا ہے۔ تاہم شارک سے اسے کشید کرنا ایک متنازعہ عمل ہے، کیونکہ شارک معدومی کے خطرے سے دوچار ہے۔

لہٰذا ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کمپاﺅنڈ شارک کی بجائے فلوریڈا میں پائی جانے والی اژدھوں کی اس برمی نسل سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔

سائنس دانوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ ایک 10 فٹ کے اژدھے میں یہ کمپاﺅنڈ اس قدر ہوتا ہے کہ اس سے ویکسین کی 3500 خوراکیں تیار ہوسکتی ہیں۔

واضح رہے کہ اس کمپاﺅنڈ کا ویکسینز کی تیاری میں استعمال پہلی بار 1997ء میں کیا گیا تھا، جب اسے انفلوئنزا کی ویکسین میں ڈالا گیا تھا۔