Aaj TV News

BR100 4,597 Increased By ▲ 11 (0.24%)
BR30 17,781 Increased By ▲ 212 (1.21%)
KSE100 45,018 Increased By ▲ 192 (0.43%)
KSE30 17,748 Increased By ▲ 82 (0.46%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,360,019 6,540
DEATHS 29,077 12
Sindh 520,415 Cases
Punjab 460,335 Cases
Balochistan 33,855 Cases
Islamabad 115,939 Cases
KP 183,865 Cases

مسلم لیگ ن کےرہنماء خرم دستگیر کہتے ہیں 7ووٹ غیرقانونی طورپرمستردکیے گئے۔ووٹرنےخانےکےاندرہی مہر لگائی ہے۔ڈپٹی چیئرمین کے الیکشن میں7ووٹ دوسری طرف گئے۔

آج نیوزکےپروگرام دس میں گفتگو کرتے ہوئےان کا کہنا تھا کہ وفاداریاں تبدیل کرانےوالوں سےبھی سوال ہوگا۔ الیکشن کوشک وشبہات سے پاک بناناہوگا۔اپوزیشن کےتمام لوگوں نےخانےکےاندرہی مہرلگائی۔خواہش ہےکہ پارلیمنٹ کےمعاملات عدالت نہ جائیں۔دھاندلی کیخلاف عدالت جائے بغیرکوئی چارہ نہیں۔

انہوں نےکہاانتخابی عمل کوشفاف بنانےکےلئےکام کرناہوگا۔سنجرانی کےخلاف تحریک عدم اعتمادلاسکتےہیں۔موجودہ نظام بےنقاب ہوگیاہے۔ہم اگلے 3ماہ میں چیلنج کرسکتےہیں۔

خرم دستگیر نے کہااوپن بیلٹ کےلئےآئینی ترمیم ہونی چاہیئے۔ہم اوپن بیلٹ کےخلاف کبھی نہیں رہے۔ماضی میں ہماری پارٹی سےبھی غلطیاں ہوئی ہیں۔

انہوں نے کہاایوان بالامیں کیمرےلگاناانتہائی غیرمناسب ہے۔حکومت نےنگرانی کےلئےکیمرےلگوائے۔معاملہ سنجیدہ ہیں،ایک رات میں حل نہیں ہوسکتا۔صاف،شفاف اورغیرجانبدارالیکشن مسائل کاحل ہے۔موجودہ نظام عوام کےسامنےبےنقاب ہورہاہے۔

انہوں نے کہانیب کااظہار رائے سے کیا تعلق ہے؟کوئی بھی کسی سےبھی بنیادی حقوق نہیں چھین سکتا۔نیب مریم نوازکی زبان بندی نہیں کر سکتا۔نیب سیاسی انجنیئرنگ کا ادارہ ہے۔نیب بنیادی حقوق کوکچلنےکےلئےاستعمال ہورہا ہے۔زبان بندی کےلئےنیب کےاستعمال کی مذمت ہونی چاہیئے۔

خرم دستگیر نے مزید کہاپارلیمان سب سےمحترم ادارہ ہے،اس کی جڑیں عوام میں ہیں۔مریم نوازمسائل پر کھل کر بات کرتی ہیں۔عوام نےمریم نواز کی بےلاگ گفتگو کوسراہا ہے۔