Aaj TV News

BR100 4,597 Increased By ▲ 11 (0.24%)
BR30 17,781 Increased By ▲ 212 (1.21%)
KSE100 45,018 Increased By ▲ 192 (0.43%)
KSE30 17,748 Increased By ▲ 82 (0.46%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,360,019 6,540
DEATHS 29,077 12
Sindh 520,415 Cases
Punjab 460,335 Cases
Balochistan 33,855 Cases
Islamabad 115,939 Cases
KP 183,865 Cases

پاکستان میں برسراقتدار جماعت تحریک انصاف نے اپنی انتخابی مہم میں یہ نعرہ لگایا تھا کہ وہ اقتدار میں آ کر جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنائے گی۔

پنجاب آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے اور اس کے جنوبی حصہ ملتان سے رحیم یار خان تک ہے جسے معاشی طور پر کمزور یا پسماندہ خطہ تصور کیا جاتا ہے۔

پنجاب اور وفاق میں تحریک انصاف کی حکومت میں اس علاقے کے منتخب نمائندوں کا کردار اہم ہے جن کی اکثریت پچھلے دور حکومت میں مسلم لیگ ن میں شامل تھی۔

وزیراعظم عمران خان نے حلف اٹھاتے ہی پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے لیے جنوبی پنجاب کے علاقے سے سردار عثمان بزدار کو منتخب کیا جنہوں نے سنہ 2018 میں صوبے کی کمان سنبھالتے ہی علاقے کی معاشی ترقی اور نیا صوبہ بنانے کا اعلان کیا۔

جنوبی پنجاب صوبہ کیسے بنے گا؟ اس کی طرف زیادہ توجہ نہیں دی گئی کیونکہ ملک میں صوبوں کی تعداد بڑھانے کے لیے آئین کے بنیادی ڈھانچے میں تبدیلی لازم تھی اور ایسی تبدیلی کرنے کے لیے پارلیمان میں دو تہائی اکثریت درکار تھی۔

صوبائی حکومت نے اس کا حل یہ نکالا کہ فی الحال جنوبی پنجاب کو نیا صوبہ تو نہیں بنایا جا سکتا اس لیے یہاں ایک سیکریٹیریٹ الگ سے بنے گا جو صرف جنوبی پنجاب کے عوام کے مسائل براہ راست حل کرے گا۔

یہیں سے اس سیکریٹیریٹ کے بننے سے قبل ہی اس کی ناکامی کا آغاز ہوتا ہے۔ 30 مارچ منگل کے روز چیف سیکریٹری پنجاب کی جانب سے ایک نوٹیفیکشن جاری کیا گیا۔

دستاویز کے مطابق جنوبی پنجاب میں قائم سیکریٹیریٹ کے ایگزیکٹو اختیارات واپس لے لیے گئے ہیں اور پانچ بڑے محکمے جن میں محکمہ داخلہ، محکمہ قانون، محکمہ خزانہ، پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ اور محکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن (ایس اینڈ جی اے ڈی) کو جنوبی پنجاب سیکریٹیریٹ سے ختم کر دیا گیا ہے اور یہ تمام محکمے واپس لاہور میں واقع سول سیکریٹیریٹ میں قائم کر دیے گئے ہیں۔

اسی طرح جنوبی پنجاب کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری کو دیے جانے والے ایگزیکٹو اختیار بھی واپس لے لیے گئے ہیں۔ اب جنوبی پنجاب کے ’خود ساختہ‘ سیکریٹیریٹ میں ہر طرح کے تقرر و تبادلے بھی لاہور سے ہوں گے۔

٭ اقتدار کے کھیل کی اندرونی لڑائی

جنوبی پنجاب سے آخری اطلاعات آنے تک وہاں کے پہلے ایڈیشنل چیف سیکریٹری زاہد اختر زمان کا تبادلہ چھ مارچ کو اسلام آباد کر دیا گیا ہے۔ جبکہ سیکریٹری آبپاشی کیپٹن ریٹائرڈ سیف انجم کو اضافی چارج دے کر ایڈیشنل چیف سیکریٹری جنوبی پنجاب لگا دیا گیا ہے۔

جنوبی پنجاب سیکریٹیریٹ میں کام کرنے والے ایک اعلیٰ افسر اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس سارے معاملے کی اندرونی کہانی عرب خبر رساں ادارے کی اردو شاخ کو بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’عملی طور پر جنوبی پنجاب سیکریٹیریٹ ختم کردیا گیا ہے۔ زاہد اختر زمان نے اس شرط پر جنوبی پنجاب کا ایڈیشنل چیف سیکرٹری بننے کی حامی بھری تھی کہ اگر یہ ایک خود مختار سیکریٹیریٹ ہو گا تو ہی وہ ذمہ داریاں ادا کریں گے۔ اگست 2020 میں اور ستمبر میں جنوبی پنجاب کے سیکریٹیریٹ کو نیم خودمختاری دی گئی جس میں اس کا الگ سے ہوم، فنانس، پی اینڈ ڈی، ایس اینڈ جی اے ڈی اور قانون کا محکمہ بنا دیا گیا۔ تمام عملہ ایڈیشنل چیف سیکریٹری کو جواب دہ تھا اور تمام سیکریٹری مکمل طور پر اختیارات کے مالک تھے۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ ’حکومت نے رولز آف بزنس میں ترامیم کر کے یہ اختیارات تفویض کرنا تھے کہ اچانک اس سال فروری میں یہ سارا کام روک دیا گیا۔ جس پر ایڈیشنل چیف سیکریٹری چھٹی پر چلے گئے ان کے چھٹی پر جانے کے بعد ان کے تبادلے کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا۔ اور اب پانچ بڑے محکمے جو تقریبا قائم کیے جا چکے تھے۔ ان کے لیے لاکھ لاکھ دو دولاکھ پر عمارتیں کرائے پر لے کر ان کی تزئین و آرائش کر لی گئی تھی۔ لاہور سے عملہ تعینات کر دیا گیا تھا۔ لوگ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ شفٹ ہو چکے تھے تو اب اچانک ایک نوٹیفیکیشن سے پانچ مرکزی محکمے واپس لے لیے گیے ہیں۔‘

جنوبی پنجاب سیکریٹیریٹ میں اہم عہدے پر فائز اس افسر نے مزید بتایا کہ ’اب تمام سیکریٹری لاہور سیکریٹیریٹ کو جواب دہ ہیں۔ مطلب ان ڈیپارٹمنٹس کو مرکزی سیکریٹیریٹ کا ماتحت بنا دیا گیا۔ اب ایک دفعہ فائل جنوبی پنجاب میں رکے گی تو اس کے بعد لاہور میں پھنسے گی۔ مطلب اس سے زیادہ بہتر ہے اس سیکریٹیریٹ کو مکمل بند کر دیا جائے۔ اس طرح کی حالت میں یہ صرف عوام اور اس میں کام کرنے والے افسران اور اہلکاروں کے لیے وبال جان کے علاوہ کچھ نہیں۔‘

پنجاب حکومت کی ترجمان مسرت چیمہ نے اس صورت حال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’جنوبی پنجاب سیکریٹیریٹ کو ختم نہیں کیا گیا۔ وہ اسی طرح بحال ہے چند انتظامی تبدیلیاں کی گئی ہیں جو کہ سسٹم کا حصہ ہے۔ اس سے کوئی زیادہ فرق نہیں پڑے گا بلکہ کام میں بہتری آئے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ابھی وہ خود اس کو دیکھ رہی ہیں اس حوالے سے پنجاب حکومت کا موقف دیا جائے گا۔