Aaj TV News

BR100 4,839 Decreased By ▼ -13 (-0.27%)
BR30 25,680 Increased By ▲ 9 (0.03%)
KSE100 45,023 Decreased By ▼ -163 (-0.36%)
KSE30 18,439 Decreased By ▼ -46 (-0.25%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 725,602 4584
DEATHS 15,501 58
Sindh 269,126 Cases
Punjab 250,459 Cases
Balochistan 20,321 Cases
Islamabad 66,380 Cases
KP 99,595 Cases

کراچی :سپریم کورٹ نے شاہراہ قائدین پر قائم نسلہ ٹاور کو غیرقانونی قرار دے کر گرانے کا حکم دے دیا۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد کی سربراہی میں شاہراہ قائدین پر تجاوزات سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔

کمشنر کراچی نے عدالت کو بتایا کہ شاہراہ قائدین اورشاہراہ فیصل کے سنگم پر نسلہ ٹاور کی انسپکشن ہوگئی ہے۔

چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے خود کیوں انکوائری نہیں کی؟ جس پر کمشنر کراچی نے کہا کہ ایس بی سی اے کی رپورٹ کے مطابق عمارت نالے پر نہیں ہے۔

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ایس بی سی اے نے تو سب سے زیادہ گھپلے کے ہیں، جس پر ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ایک حصہ غیرقانونی ہے وہ گرادیں گے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ایس بی سی اے والے معلوم ہے کون ہیں؟ ان ہی لوگوں نے سب بنایا ہے اور بنوایا ہے، پی ای سی ایچ ایس میں کوئی پلاٹ خالی نہیں تھا یہ کہاں سے آگیا ؟ ۔

ڈی جی ایس بی سی اے نے بتایا کہ روڈ کی ری الائنمنٹ ہوئی تھی جس میں یہ زمین سامنے آئی۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا تو اس کو بیچ دیں گے ؟ کیا کررہے ہیں آپ لوگ ؟ یہ ایس بی سی اے کا کیا دھرا ہے ،کل سپریم کورٹ اور چیف منسٹر ہاؤس بھی الاٹ کردیں گے، کیا تماشہ لگایا ہوا ہے آپ لوگوں نے ؟

عدالت نے استفسار کیا کہ کتنے منصوبے زیرغور ہیں منظوری کیلئے، جس پر ڈی جی ایس بی سی اے نے بتایا کہ ہمارے پاس 319 منصوبوں کی درخواستیں ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ لوگوں سے جو چاہیں الاٹ کرالیں، مولانا صاحب کو سامنے لا کر کھڑا کردیا ہے اصل آدمی تو کوئی اور ہے، کیا نام ہے اس آدمی کا وہی چلا رہا کے ایس بی سی اے، ایس بی سی اے ایسی جگہ ہے جہاں سے پیسہ نکلتا ہے، اسے چلانے والے کوئی اور ہیں اور جو سامنے ہیں وہ نہیں چلا رہے۔

چیف جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا کہ ریونیو، سب رجسٹرار آفس اور ایس بی سی اے یہ وہ جگہیں جہاں سب سے زیادہ مال آتا ہے۔

عدالت نے کہا کہ نسلہ ٹاور غیرقانونی بنا ہوا ہے بلڈر تو غائب ہے، نہیں آتا، بلڈر نے ان لوگوں کو سامنے کھڑا کیا ہوا ہے اور رپورٹ بھی اپنے حق میں بنوالی ہے، 50سال پرانا علاقہ ہے کوئی پلاٹ خالی نہیں لیکن یہ پلاٹ نکال دیا گیا۔

عدالت نے ڈی جی ایس بی سی اے حکم دیتے ہوئے کہا کہ ہم پلاٹ کینسل کررہے ہیں آپ بلڈنگ گرادیں۔