Aaj TV News

BR100 4,599 Increased By ▲ 13 (0.29%)
BR30 17,334 Decreased By ▼ -78 (-0.45%)
KSE100 44,888 Decreased By ▼ -36 (-0.08%)
KSE30 17,696 Decreased By ▼ -30 (-0.17%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,381,152 6,357
DEATHS 29,122 17
Sindh 529,218 Cases
Punjab 466,164 Cases
Balochistan 33,975 Cases
Islamabad 120,128 Cases
KP 185,683 Cases

سعودی عرب کی وزارت حج و عمرہ نے رمضان کے لیے عمرہ اور حرمین شریفین میں نماز کے اجازت ناموں کے لیے رہنما اصولوں کا اعلان کر رکھا ہے اور کورونا ویکسینیشن ترجیحات میں سرفہرست ہے۔

وزارت حج و عمرہ میں حج وعمرہ خدمات کے نائب وزیر ڈاکٹر امرالمداح کے مطابق کورونا ویکسین کی کم از کم ایک خوراک لگوائے بغیر کسی بھی زائر کو مسجد الحرام یا مسجد نبوی میں داخلے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔

مزید برآں وزارت اسلامی امور، دعوت و ہدایت نے حرمین شریفین میں آنے والوں کی حفاظت، صحت اور تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے تمام احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کی ضرورت پر روشنی ڈالی ہے۔

عرب نیوز کے لیے خصوصی انٹرویو میں نائب وزیر برائے حج و عمرہ خدمات ڈاکٹر امرالمداح نے سوالات کے جوابات دیئے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ مسجد الحرام میں روزانہ 50 ہزار عمرہ زائرین اور ایک لاکھ نمازیوں کا استقبال کیا جاسکتا ہے۔

شاہی فرمان کے مطابق حرم مکی میں داخل ہونے والوں کے لیے ویکسین ضروری ہے۔

مجوزہ طور پر بیرون ملک سے آنے والوں کو لازمی طور پر ویکسین سرٹیفکیٹ ساتھ رکھنا ہوگا جس سے معلوم ہوسکے کہ انہیں ویکسین لگائی گئی ہے۔

وزارت کے تشخیص کے عمل میں ڈبلیو ایچ او کی تشخیص، نئی ویکسینز کے خطرات کی جانچ اور وزارت صحت کی ان ویکسینز کی تاثیر کا جائزہ بھی لیا گیا ہے۔

وزارت حج و عمرہ خدمات مہیا کرنے کے حوالے سے ان معلومات پر مکمل انحصار کرتی ہے جو اسے ویکسینز اور ان کی افادیت کا اندازہ کرنے کی اہلیت رکھنے والے سرکاری اداروں سے موصول ہوتی ہیں جب کہ ہر ملک کا ہیلتھ سرٹیفکیٹ مخصوص نظام کی پیروی کرتا ہے۔

وزارت حج و عمرہ نے کورونا وائرس میں اضافے کا سامنا کرنے والے ممالک سے آنے والے زائرین کےلیےعمرہ یا حرم شریف میں داخلہ روک رکھا ہے۔

وزارت صحت کے ذریعہ اپنائے جانے والے حفاظتی اقدامات کی بنیاد پرمسجد الحرام کی آپریشنل صلاحیت پہلے سے طے کی گئی ہے۔

اعتمرنا ایپ اور توکلنا ایپ کے استعمال کے بعد عمرہ زائر یا نمازی کو داخلے کا اجازت نامہ جاری کیا جاتا ہے جسے وہ استقبالیہ مرکز میں دکھا سکتے ہیں۔

علاوہ ازیں زائر کو لائسنس یافتہ ٹرانسپورٹ خدمات لینے کی ضرورت ہے کیونکہ ان بسوں میں جراثیم کش ادویات کا چھڑکاؤ اور نشستوں کے درمیان جگہ چھوڑنے کی احتیاطی تدابیر اپنائی گئی ہیں۔

اس کے بعد سیکیورٹی وجوہ کی بنا پر زائر سے عمرہ اور نماز کے لئے وقت مختص کرنے سے قبل ایک بار پھر اجازت نامے کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔

بیرون ملک سے آنے والے حجاج کرام کی صحت کا سٹیٹس اگر توکلنا سسٹم میں داخل نہیں ہوا تو انہیں ہیلتھ کیئرسنٹر کا دورہ کرنا ہوگا جہاں انہیں تمام تر مطلوبہ مدد میسر ہوگی۔

ان کی صحت کا احوال ان کے آبائی ملک کے فراہم کردہ ویکسی نیشن سرٹیفکیٹ کے مطابق اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔ اس کے بعد عمرہ کی ادائیگی کے لئے مناسب تاریخ مخصوص کردی جائے گی۔

اجازت نامے کے بغیرعمرہ ادا کرنے پر 10ہزار ریال اور بغیراجازت نامہ کے حرم شریف میں داخلے پر ایک ہزار ریال جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

مکہ میں فیلڈ ٹیمیں چوبیس گھنٹے کام کر رہی ہیں تاکہ زائرین کی صحت اور ضروریات کا خیال رکھا جا سکے۔ سیکیورٹی ادارے وزارت حج و عمرہ کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔

عمرہ پرمٹ کی تعداد کے تعین میں صحت کی مجموعی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئےآپریشنل صلاحیت ہر روز بڑھائی جا رہی ہے۔

ڈاکٹر امر المداح کے مطابق جتنے زیادہ لوگ ویکسین لگائیں گے اتنی جلد ہی معمول کی زندگی میں جا سکیں گے اور مسجد الحرام آنے والے ہر زائر کا خیرمقدم کیا جائے گا۔

اس وقت مکہ میں عمرہ زائرین کی بسیں، ٹکٹ کاؤنٹرز اور دیگر سہولیات کے ہر مقام پر جراثیم کش سپرے کیا جا رہا ہے۔ ہر چکر کے بعد بس میں چھڑکاو ہوتا ہے اور ہر آدھے گھنٹے بعد استقبالیہ مراکز کو بھی اسی عمل سے گزارا جارہا ہے کیونکہ حفاظتی اقدامات کے لیے یہ ضروری ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ رواں سال حج کے لیے ویکسی نیشن کے معاملے پر ابھی کوئی شاہی فرمان جاری نہیں کیا گیا۔ حکم نامے کے مطابق وزارت حج کی جانب سے مکمل کارروائی کی جائے گی۔

واضح رہے کہ گذشتہ حج سیزن میں کورونا وائرس کا بحران عروج پر تھا تاہم وبائی مرض سے نمٹنے کے طریقہ کار پر عمل کرنے سے اب صورتحال یکسر مختلف ہے۔

زائرین کی بہتر خدمات کےلیے موسسہ ارباب الطواف کےادارے معاون ثابت ہوں گے اور اہل افراد کے لیے مزید دروازے کھلیں گے جو ان اداروں کو قومی اداروں میں تبدیل کر کے عازمین کی خدمت میں 'قومی چیمپئن' بن سکیں گے۔

حج وعمرہ کمپنیاں یا خدمات کے ادارے اپنی اصلاحات کی بنا پر حصص یافتگان اور ملازمین کے لیے منافع بخش ثابت ہوں گے۔ یہ ادارے خدمات کے شعبے میں موجود مقامی صلاحیتوں پر بھروسہ کرتے ہوئے بین الاقوامی طور پر دی جانے والی خدمات کا معیار اپنائیں گے۔

یہ ادارے عمدہ ذہن اور ہنرمند کارکنوں کو راغب کرنے کے ساتھ ساتھ عازمین کو بہتر خدمات فراہم کر کے شیئر ہولڈرز کے لیے منافع بخش ثابت ہوں گے۔