Aaj TV News

BR100 4,607 Decreased By ▼ -61 (-1.3%)
BR30 20,274 Decreased By ▼ -618 (-2.96%)
KSE100 44,629 Decreased By ▼ -192 (-0.43%)
KSE30 17,456 Decreased By ▼ -66 (-0.38%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,265,650 603
DEATHS 28,300 20
Sindh 466,154 Cases
Punjab 438,133 Cases
Balochistan 33,133 Cases
Islamabad 106,504 Cases
KP 176,950 Cases

سوشل میڈیا پر طالبان کی جانب سے صرف لڑکوں کو تعلیم کی اجازت دینے کی افواہ گرم ہے۔ اور ایسا منظرنامہ پیش کیا جارہا ہے کہ طالبات کو تعلیم کی اجازت طالبان کے دورہ حکومت میں نہیں ہوگی۔

سوشل میڈیا پر افواہ چل رہی ہے کہ طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد وزارت تعلیم کی جانب سے اعلامیہ جاری کیا گیا ہے ۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ صرف پرائمری ، سیکینڈری اور ہائی اسکول کے لڑکے ہی پڑھنے آسکتے ہیں ۔لیکن وائرل ہونے والے اعلامیے میں یہ بیان نہیں کیا گیا کہ طالبات تعلیم حاصل کرنے آسکتی ہیں یا نہیں۔

تاہم اس نوعیت کا کوئی اعلامیہ تاحال افغان وزارت تعلیم کے ٹوئیٹر اکاونٹ پر موجود نہیں ہے۔

پہلے طالبان کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ لڑکیاں اپنی تعلیم جاری رکھ سکتی ہیں لیکن تعلیم کے دوران انکے لئے مخصوص لباس لازمی ہوگا اور انکی کلاسیں بھی علیحدہ ہوں گی۔

واضح رہے کہ طالبان کی جانب سے اس حوالے سے ابھی تک کوئی وضاحت جاری نہیں کی گئی ہے ۔

دوسری جانب آئی آر سی نامی ادارے کی جانب سے عالمی رہنماوں سے تعلیم حاصل کرنے والی افغان طالبا ت کی مالی اور سفارتی امداد کی اپیل کی گئی ہے۔ طالبان کی جانب سے طالبات کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ اپنی تعلیم جاری رکھ سکتی ہیں۔

جس کے بعد اب آئی آر سی کی جانب سے یہ اپیل کی گئی ہے۔