سانحہ مہران ٹائون کیس، غفلت برتنے والے افسران بطور ملزمان نامزد
سانحہ مہران ٹائون کیس میں اہم پیش رفت ہوئی ہے اور غفلت برتنے والے چار اداروں کے افسران بطور ملزمان نامزد کردیئے گئے ہیں ، پولیس نے چالان پیش کردیا۔
کراچی کی مقامی عدالت میں پیش کیئے گئے چالان میں محکمہ لیبر ،ایس بی سی اے ،کے ڈی اے، سول ڈیفنس غفلت کے مرتکب قرار دیئے گئے ہیں ،محکمہ لیبر افسر محمد علی ، ڈپٹی ڈائرکٹر ایس بی سی اے کورنگی عبدالسمیع ، کے ڈی اے کے ڈپٹی ڈائریکٹر لینڈ عرفان حسین ڈپٹی کنٹرولر سول ڈیفینس شہاب الدین بھی ملزم قرار دیئے گئے ہیں ۔
تحقیقاتی حکام کاکہناہے کہ دوران تفتیش ان افسران کی مجرمانہ غفلت سامنے آئی، اسلئے مقدمہ میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 119 بھی شامل کرنے کی سفارش کی گئی ہے ۔
تفتیش کاروں کے مطابق عینی شاہدین سمیت 64 گواہوں کے نام چالان میں شامل ہیں ،چالان کے مطابق ڈی وی آر اور دیگر فارنسک رپورٹس تا حال موصول نہیں ہوئی ۔
پولیس کی جانب سے شارٹ سرکٹ خارج از امکان قرار دیا گیاہے ، آگ لگنے کے مقام پر آگ کو شدت دینے والی صمد بونڈ سمیت دیگر اشیا موجود تھی،عینی شاہد نے 10:06 بجے دیکھا کہ دھواں اٹھ رہا ہے،بجلی نہیں تھی آگ لگنے کی وقت جنریٹر چل رہا تھا ،جہاں آگ لگی وہاں کوئئ سی سی ٹی وی کیمرا نہیں تھا ۔عدالت نے چالان منطور کرتے ہوئے سماعت تیس ستمبر تک ملتوی کردی۔
پس منظر ۔ ۔ ۔
کراچی کے علاقے مہران ٹاؤن میں کیمیکل فیکٹری میں خطرناک آتشزدگی سے 16 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔
رپورٹ کے مطابق ، فیکٹری میں کیمیکل کی موجودگی کے باعث آگ تیزی سے پھیلی، ایمرجنسی ایگزٹ نہ ہونے سے ہلاکتیں بڑھیں۔ انتظامات نہ ہونے کے سبب مزدوروں کی دم گھٹنے سے موت واقع ہوئی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چھت پر موجود دروازے پر تالہ لگا ہوا تھا۔ تالہ توڑنے کی کوشش بھی کامیاب نہ ہوئی۔ کھڑکیوں پر لگی گرل کو توڑنے کی کوشش بھی ناکام رہی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صبح دس بج کر آٹھ منٹ پر آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا۔ آگ بجھانے میں نو گھنٹے کا وقت لگا۔ ریسکیو کارروائیوں میں شریک دو اہلکار بھی زخمی ہوئے۔















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔