Aaj TV News

BR100 4,607 Decreased By ▼ -61 (-1.3%)
BR30 20,274 Decreased By ▼ -618 (-2.96%)
KSE100 44,629 Decreased By ▼ -192 (-0.43%)
KSE30 17,456 Decreased By ▼ -66 (-0.38%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,265,047 663
DEATHS 28,280 11
Sindh 465,819 Cases
Punjab 437,974 Cases
Balochistan 33,128 Cases
Islamabad 106,469 Cases
KP 176,886 Cases

چرچز میں بچوں کے ساتھ ریپ کے کیسز کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ سال 1950 سے اب تک بچوں کے ریپ میں ملوث ہزاروں افراد فرانسیسی کیتھولک چرچ میں ہی کام کرتے تھے اور کم از کم 2900 سو سے 3200 پادری اور دیگر ارکان بچوں کے ریپ میں ملوث تھے۔

رپورٹ کے مطابق فرانسیسی کیتھولک چرچ میں بچوں کے ریپ کی تحقیقات کے لیے 2018 میں آزاد کمیشن بنایا گیا تھا۔ کمیشن کی یہ رپورٹ 2500 صفحات پر مشتمل ہے جو منگل کو جاری کی جائے گی۔

واضح رہے کہ کیتھولک فرقے کے مسیحیوں کے رہنما پوپ فرانسس نے پادریوں اور دوسرے مذہبی رہنماؤں کے ہاتھوں بچوں کے ساتھ ہونے والے ریپ سے جو "مکروہ" برائی پیدا ہوئی اس پر معافی کی درخواست کی ہے۔

پوپ نے کہا کہ بچوں کے ساتھ ریپ سے 'کلیسا سے منسلک مردوں کے ہاتھوں اخلاقی نقصان ہوا' اور اس سلسلے میں چرچ سے منسلک افراد پر "پابندیاں" لگائی جائیں گی۔

پوپ نے یہ بیان بچوں کے حقوق کی تنظیموں کے نمائندوں کے ساتھ ایک ملاقات میں دیا اور یہ اس مسئلے پر پوپ فرانسس کا "سخت ترین" بیان ہے۔

یاد رہے کہ پوپ نے گذشتہ برس مذہبی رہنماؤں کے ہاتھوں ریپ کا شکار ہونے والے افراد کی مدد کی غرض سے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی تھی، لیکن کچھ کیتھولک حلقوں نے ان پر الزام لگایا تھا کہ بچوں کا ریپ کرنے والے پادریوں کے ہاتھوں ہونے والے اخلاقی اور ذہنی نقصان کو تسلیم کر کے پوپ اس معاملے میں خوامخواہ خود کو گھسیٹ رہے ہیں۔