Aaj TV News

BR100 4,381 Decreased By ▼ -20 (-0.46%)
BR30 16,863 Decreased By ▼ -630 (-3.6%)
KSE100 43,233 Decreased By ▼ -1 (-0%)
KSE30 16,718 Increased By ▲ 20 (0.12%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,286,453 431
DEATHS 28,761 8
Sindh 476,494 Cases
Punjab 443,379 Cases
Balochistan 33,491 Cases
Islamabad 107,848 Cases
KP 180,254 Cases

فیڈرل انویسٹیگیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے قائدِ حزبِ اختلاف شہباز شریف اور ان کے بیٹے پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کے خلاف منی لانڈرنگ کیس میں بینکنگ کورٹ کے دائرہِ اختیار پر اعتراض اٹھا دیا۔

شہباز شریف اور حمزہ شہباز منی لانڈرنگ کیس میں ضمانت کی مدت ختم ہونے پر لاہور کی بینکنگ کورٹ کے روبرو پیش ہوئے۔

دوران سماعت عدالت کی جانب سے تحقیقات میں پیش رفت سے متعلق استفسار پر ایف آئی اے نے کے پراسکیوٹر معظم حبیب نے عدالت کو بتایا کہ شہباز شریف کو سوالنامہ بھجوایا گیا تھا، جس پر انہوں نے جواب جمع کرایا ہے، شہباز شریف کے جوابات دیکھ کر تفتیش میں پیش رفت ہو گی۔

جس پر فاضل جج نے ریمارکس دیئے کہ بہت وقت ہو گیا ہے، ملزمان کی عبوری ضمانت کی درخواستیں زیرِ التواء ہیں۔

شہباز شریف نے عدالت کے روبرو کہا کہ یہ وہی پلندہ ہے جس پر لندن سے فیصلہ آیا ہے، ایف آئی اے کے افسر تمام باتیں میڈیا کو بتا دیتے ہیں۔

ایف آئی اے کے وکیل نے کہا کہ کیس کی سماعت بینکنگ کورٹ میں نہیں ہو سکتی، اینٹی کرپشن کی دفعات کی وجہ سے کیس بینکنگ کورٹ میں نہیں چلایا جا سکتا۔

جس پر فاضل جج نے کہا کہ پہلی بار سرکاری وکیل کی طرف سے دائرہ اختیار کا سوال اٹھایا گیا ہے، 30 اکتوبر کو عدالت کے دائرہ اختیار کے اعتراض پر سماعت ہو گی۔

دریں اثنا بینکنگ کورٹ نے منی لانڈرنگ کیس میں شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی عبوری ضمانتوں میں 30 اکتوبر تک توسیع کر دی۔

پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنما عطا تارڑ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایف آئی اے کو آج عدالت کے دائرہ اختیار کا خیال کیوں آیا؟ ایک سال سے زیادہ ہوگیا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا، یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ ہم ایف آئی اے سے تعاون نہیں کر رہے، ایف آئی اے قوم کا پیسہ اور وقت ضائع کر رہا ہے۔

عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے شہزاد اکبر کے کہنے پر اپنی مرضی کی خبر دیتا ہے، ایف آئی اے نے آج تک کسی کیخلاف اتنا طویل کیس نہیں چلایا، نیازی حکومت نئے نئے قوانین لے کر آرہی ہے، کیس کی تفتیش کو ایک سال سے زیادہ ہوگیا ہے، شہباز شریف اور حمزہ شہباز کیخلاف کوئی ثبوت نہیں ہے، حیلے بہانوں سے عدالت کا وقت ضائع کیا جا رہا ہے، جہانگیر ترین کا کیس بھی اسی معزز عدالت میں چلا۔