Aaj TV News

BR100 4,607 Decreased By ▼ -61 (-1.3%)
BR30 20,274 Decreased By ▼ -618 (-2.96%)
KSE100 44,629 Decreased By ▼ -192 (-0.43%)
KSE30 17,456 Decreased By ▼ -66 (-0.38%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,265,650 603
DEATHS 28,300 20
Sindh 466,154 Cases
Punjab 438,133 Cases
Balochistan 33,133 Cases
Islamabad 106,504 Cases
KP 176,950 Cases

رپورٹر: آصف نوید

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آبادمیں نور مقدم کیس میں مرکزی ملزم ظاہر جعفر سمیت 12ملزمان پر فرد جرم عائد کر دی گئی۔

نور مقدم قتل کیس کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج عطاء ربانی نے کی۔مرکزی ملزم ظاہر جعفر سمیت دیگر ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا۔

ملزم ذاکر جعفر نے فرد جرم کی کارروائی روکنے کی درخواست دائر کر دی۔

وکیل رضوان نے موقف اپنایا کہ ذاکر جعفر کےخلاف ایسے کوئی شواہد نہیں کہ فرد جرم عائد کی جائے۔عدالت میں پیش شواہد کا ذاکر جعفر سے تعلق نہیں بنتا۔

وکیل شوکت مقدم نے کہا کہ شواہد کا جائزہ ٹرائل میں لیا جا سکتا،عدالت درخواست مسترد کرکے فرد جرم عائد کرے۔

دلائل کےدوران ظاہرجعفرنےمسلسل مداخلت کی کوشش کی۔تھراپی ورکس والوں کی طرف اشارہ کرتےہوئےکہاکہ یہ بندےمیرےگھر داخل ہوئے،نورمقدم میری دوست تھی، آپ کیوں مداخلت کر رہے ہیں؟ میری زندگی خطرے میں یہ میری جائیداد کا ذکر کر رہے ہیں۔

ظاہر جعفر نے کمرہ عدالت میں شوکت مقدم سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگتے ہوئے کہا کہ میرے زندگی خطرے میں ہے مجھے پر رحم کریں۔

ظاہر جعفر نے بار بار عدالت سے فون کال کرنے کی اجازت کی استدعا بھی کی، جبکہ ملازم ملزم افتخار کمرہ عدالت میں رو پڑے۔ انہوں نے کہا کہ نور کا دو سال سے آنا جانا تھا مجھے نہیں علم یہ ہو گا۔

عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر مرکزی ملزم ظاہر جعفر ،اس کے والدین،سمیت 12ملزمان پر فرد جرم عائد کر دی۔