Aaj TV News

BR100 4,607 Decreased By ▼ -61 (-1.3%)
BR30 20,274 Decreased By ▼ -618 (-2.96%)
KSE100 44,629 Decreased By ▼ -192 (-0.43%)
KSE30 17,456 Decreased By ▼ -66 (-0.38%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,265,650 603
DEATHS 28,300 20
Sindh 466,154 Cases
Punjab 438,133 Cases
Balochistan 33,133 Cases
Islamabad 106,504 Cases
KP 176,950 Cases

وزیراعظم عمران خان سے وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے ملاقات کی۔

وزیراعظم عمران خان سے وزیراعلی بلوچستان جام کمال نے ملاقات کی ،ملاقات میں بلوچستان کی سیاسی صورتحال سمیت تحریک عدم اعتماد پر تبادلہ خیال کیا ۔

ملاقات سےقبل گفتگو میں وزیراعلی جام کمال نے کہا کہ تحریک عدم اعتماد کا سامنا کرینگے ، اتحادی اورناراض ارکان میں کچھ لوگ ساتھ ہیں ۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے چیف الیکشن کمشنرسے بھی ملاقات کی،اور ملاقات میں ظہوربلیدی کی بطورپارٹی صدرنوٹی فکیشن کوغیرقانونی قراردیتےہوئے بتایاکہ پارٹی صدارت سے استعفی نہیں دیا ، اب بھی صدرہوں ۔

وزیراعلی بلوچستان نے مزید کہاکہ پارٹی کے جنرل سیکرٹری کا اختیارنہیں،صدرکی موجودگی میں قائم مقام صدرمنتخب کریں ۔

ادھر بلوچستان میں وزیراعلیٰ جام کمال کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک میں انکی اپنی جماعت بھی شامل ہوگئی۔

بلوچستان میں سیاسی ہلچل عروج پر پہنچ گئی ہے۔ وزیر اعلی جام کمال خان کے خلاف اپوزیشن کے بعد انکی اپنی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی اور حکومت میں شامل بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی نے بھی تحریک عدم اعتماد جمع کرادی ہے۔

وزیر اعلی جام کمال کے خلاف دو محاذ اٹھ کھڑے ہوئے ہیں جن میں ایک بلوچستان کی اپوزیشن میں شامل جماعتیں جمعیت علماء اسلام ف ۔بلوچستان نیشنل پارٹی، پشتون خواہ ملی عوامی پارٹی اور آزاد اپوزیشن رکن سابق وزیر اعلی نواب اسلم رئیسانی پر مشتمل 23 ارکان ہے۔

دوسری جانب مخلوط حکومت 42 ارکان پر مشتمل ہے جن میں سے بلوچستان عوامی پارٹی جسے عرف عام میں باپ پارٹی کہا جاتا ہے کی تعداد 24 ہے، ان میں سے ہی ناراض گروپ نے وزیر اعلی بلوچستان کی کھل کر مخالفت کردی۔

سیاسی جوڑ توڑ کئی دنوں سے جاری ہے اور ناراض گروپ نے بھی وزیر اعلی کے خلاف اسمبلی سیکرٹریٹ میں تحریک عدم اعتماد جمع کرائی یے جس پر چودہ ارکان کے دستخط ہیں ۔