'جج کو آزادانہ سوچ کے ذریعے فیصلے کرنے چاہیے'

سپریم کورٹ کے جج جسٹس مقبول باقر نے کہا ہے کہ جج کو آزادانہ سوچ...
شائع 16 اکتوبر 2021 11:09pm

سپریم کورٹ کے جج جسٹس مقبول باقر نے کہا ہے کہ جج کو آزادانہ سوچ کے ذریعے فیصلے کرنے چاہیے۔

سندھ ہائیکورٹ بار کی جانب سے “عدلیہ کی آزادی ایک جج کی انفرادی آزادی اور سوچ سے مشروط ہے “کے عنوان سے تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ سپریم کورٹ کے جج جسٹس مقبول باقر نے سندھ ہائیکورٹ بار سے خطاب کیا ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ جج کو آزادانہ سوچ کے ذریعے فیصلے کرنے چاہیے،بینچ کے ہر رکن کا الگ ویو ہوسکتا ہے اسے اپنی سوچ کے مطابق فیصلہ کرنا چاہیے۔

تقریب سے خطاب میں ان کاکہناتھا کہ امن کے قیام سے معیشت تک غیر آئینی اقدامات روکنے میں عدلیہ کا مخصوص اور آئینی کردار ہے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ آئین کی بالادستی اور آئین پر عمل درآمد کرانے میں بھی عدلیہ کا اہم کردار ہے ۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ عام آدمی کو پریشانی اور تکلیف ہو تو وہ بھئ عدلیہ کی طرف دیکھتا ہے، ریاستی اداروں میں عدلیہ کا اہم کردار ہے ،آزاد عدلیہ ہی ہر طرح کے دباو سے آزاد رہ سکتی ہے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ جج کو حکومت ، سیاسی گروہوں اور کسی دوسرے جج کے دباو سے بھی آزاد رہنا چاہیے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سندھ ہائیکورٹ بار کے صدر صلاح الدین احمد کاکہناتھا کہ کمزور جج کٹھ پتلی کی طرح ہوتا ہے اس پر دبائو ڈالنا آسان ہوتا ہے،ہر جج کو آزادانہ سوچ کے ساتھ فیصلہ کرنا چاہیے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ عدلیہ کی آزادی کا مطلب جج کی بھی آزادی ہے ،جسٹس مقبول باقر نے فیصلوں سے ثابت کیا ہے وہ آزاد جج ہیں ۔

تقریب میں سندھ ہائیکورٹ کے سینئر ترین جج عرفان سعادت،جسٹس عقیل عباسی و دیگر ججز نے بھی شرکت کی۔