Aaj TV News

BR100 4,519 Increased By ▲ 22 (0.49%)
BR30 18,277 Decreased By ▼ -62 (-0.34%)
KSE100 44,114 Increased By ▲ 178 (0.41%)
KSE30 17,034 Increased By ▲ 95 (0.56%)
COVID-19 TOTAL DAILY
CASES 1,283,886 411
DEATHS 28,704 7
Sindh 475,097 Cases
Punjab 442,876 Cases
Balochistan 33,471 Cases
Islamabad 107,601 Cases
KP 179,888 Cases

بھارت کی سماج وادی پارٹی کے صدر اور اتر پردیش کے سابق وزیرِ اعلیٰ اکھلیش یادیو کی جانب سے بھارتی کی آزادی میں گاندھی، نہرو اور پٹیل کے ساتھ ساتھ بانیِ پاکستان محمد علی جناح کا نام لینے پر سیاسی بحث زور و شور سے جاری ہے۔

ایک طرف جہاں اس بیان پر اکھلیش یادیو کی مذمت کی جا رہی ہے تو وہیں حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ایک بڑے رہنما ششادری چاری کا کہنا ہے کہ اگر محمد علی جناح کو ملک کا پہلا وزیر اعظم بنا دیا گیا ہوتا تو ملک تقسیم نہ ہوتا۔

ششادری چاری بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قومی مجلس عاملہ کے رکن اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے انگریزی ترجمان "آرگنائزر" کے سابق مدیر ہیں۔

انہوں نے جے پور میں آر ایس ایس رہنما ویر ساورکر کی کتاب کی تقریبِ رونمائی کے موقع پر کہا کہ بدقسمتی سے ہمارے رہنماؤں نے محمد علی جناح کو وزیرِ اعظم بنانے پر غور نہیں کیا۔

اُن کے بقول اگر ایسا کر لیا گیا ہوتا تو کم از کم ملک تقسیم نہ ہوتا۔

سماج وادی پارٹی کے صدر اکھیلیش یادیو (تصویر: ون انڈیا)
سماج وادی پارٹی کے صدر اکھیلیش یادیو (تصویر: ون انڈیا)

انہوں نے مزید کہا کہ 'اگر 15 اگست 1947 کو آپ جناح کو وزیرِ اعظم بنا دیتے تو ہم بھگوان سے دعا کرتے کہ وہ بہت دن زندہ رہیں۔ لیکن وہ نہیں رہ سکتے تھے۔ کیوں کہ گوروں کو پتا تھا کہ وہ ایک سال بھی زندہ نہیں رہیں گے۔ وہ ٹی بی کے مریض تھے اور بستر مرگ پر تھے۔'

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ 'اگر ہم تقسیم کے لیے راضی نہ ہوتے اور آزادی کے لیے مزید 10 برس جنگ لڑنے کا انتخاب کرتے تو ملک کا نقشہ دوسرا ہوتا۔ ممکن ہے تب پاکستان نہ بنتا۔'

دوسری جانب اکھلیش یادیو نے 31 اکتوبر کو کانگریس رہنما سردار پٹیل کے 146 ویں یومِ پیدائش پر اترپردیش کے علاقے ہردوئی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’سردار پٹیل، مہاتما گاندھی، جواہر لعل نہرو اور جناح نے ایک ہی ادارے میں تعلیم حاصل کی اور بیرسٹر بنے۔ انہوں نے ہمیں آزادی دلائی اور کسی بھی لڑائی میں وہ پیچھے نہیں ہٹے۔'

ان کے اس بیان پر سخت ردِ عمل سامنے آیا ہے۔ بی جے پی نے ان سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ریاست کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے مراد آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس بیان کو شرم ناک قرار دیا اور کہا کہ سماج وادی پارٹی کے سربراہ نے جناح کا موازنہ سردار پٹیل سے کیا۔ یہ "طالبانی ذہنیت" ہے جو تقسیم میں یقین رکھتی ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اکھلیش یادیو نے یہ بیان ایک خاص ووٹ بینک کو خوش کرنے کے لیے دیا ہے۔ انہوں نے اکھلیش سے مطالبہ کیا کہ وہ اس بیان پر معافی مانگیں۔

ریاست کے نائب وزیرِ اعلیٰ کیشو پرساد موریہ نے کہا کہ سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادیو محمد علی جناح کی تعریف کر رہے ہیں۔ اس سے ان کے کردار کا پتا چلتا ہے۔ یہ سماج وادی پارٹی نہیں بلکہ "نماز وادی" پارٹی ہے۔ اکھلیش کو ملک سے معافی مانگنی چاہیے۔

بی جے پی کے ریاستی صدر سوتنتر دیو سنگھ نے سوال کیا کہ اکھلیش یادیو سردار پٹیل کے یومِ پیدائش پر جناح کی تعریف کیوں کر رہے ہیں؟

بی جے پی کے رکن راجیہ سبھا اور ریاست کے سابق ڈائریکٹر جنرل آف پولیس برج لال نے کہا کہ 'اکھلیش یادیو کو تاریخ پڑھنی چاہیے۔ جناح نے ہندوؤں کو نقصان پہنچایا اور ملک کو تقسیم کروایا۔'

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اور حیدرآباد سے رکن لوک سبھا اسد الدین اویسی نے بھی اکھلیش یادیو کے بیان کی مذمت کی اور انہیں مشورہ دیا کہ وہ تاریخ کا مطالعہ کریں۔

انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ 'اگر اکھلیش یادیو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ایسے بیانات دے کر عوام کے ایک طبقے کو خوش کر لیں گے تو میں سمجھتا ہوں کہ وہ غلطی پر ہیں اور میرا خیال ہے کہ انہیں اپنا مشیر بدل دینا چاہیے۔'

انہوں نے مزید کہا کہ اکھلیش یادیو کو یہ سمجھنا چاہیے کہ محمد علی جناح سے بھارتی مسلمانوں کو کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ ہمارے بزرگوں نے دو قومی نظریے کو مسترد کیا اور بھارت کو اپنا ملک مانا۔

بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی صدر اور سابق وزیرِ اعلیٰ مایاوتی نے بھی اکھلیش کو ہدف تنقید بنایا۔

انہوں نے الزام لگایا کہ اکھلیش کا بیان اور اس پر بی جے پی کا ردِعمل ایک حکمتِ عملی کا حصہ ہے تاکہ وہ اسمبلی انتخابات کو متاثر کر سکیں۔

ان کے مطابق سماج وادی پارٹی اور بی جے پی کی سیاست ایک دوسرے کی معاون ہے۔ چونکہ دونوں کی سوچ ذات برادری اور فرقہ واریت پر مبنی ہے لہٰذا دونوں اپنے وجود کے لیے ایک دوسرے پر منحصر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سماج وادی پارٹی کی حکومت میں بی جے پی مضبوط ہوتی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس پارٹی کی جانب سے اس معاملے پر خاموشی اختیار کی گئی ہے۔ کسی بھی لیڈر نے کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا۔

ان مذمتی بیانات پر اکھلیش یادیو کی جانب سے بھی کوئی ردعمل تاحال سامنے نہیں آیا ہے۔