Aaj.tv Logo

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ پارٹی کے منحرف ایم این ایز کو معاف کرنے کو تیار ہیں اگر وہ پارٹی میں دوبارہ شامل ہوں۔

مالاکنڈ کی تحصیل درگئی میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے پی ٹی آئی کے ناراض ایم این ایز کو بتایا کہ انہوں نے اپوزیشن سے رشوت لے کر غلطی کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب سوشل میڈیا کی وجہ سے قوم سیاست سے بہت زیادہ باشعور ہو چکی ہے، اس لیے ملک کا ایک بچہ بھی جانتا ہے کہ جب کوئی پارٹی ممبر بنتا ہے تو اس میں پیسہ بھی شامل ہوتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پوری قوم سمجھ رہی ہے کہ ایم این ایز نے چوروں کے حق میں ووٹ دے کر اپنا ضمیر بیچ دیا ہے۔

انہوں نے منحرف ارکان کو خبردار کیا کہ آپ عوامی اجتماعات میں شرکت نہیں کر سکیں گے اور کوئی بھی آپ کے بچوں کی شادی نہیں کرے گا جب وہ بڑے ہو جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام کو اب فیصلہ کرنے کا وقت آگیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ درگئی کے نوجوان اس جماعت کا ساتھ دیں گے جس نے پاکستان کی خاطر کام کیا ہے۔

اپوزیشن پر طنز کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ن لیگ نے اپنے دور حکومت میں آصف زرداری کو جیل میں ڈالا، جب کہ پیپلز پارٹی نے بھی مسلم لیگ ن کے خلاف کرپشن سے متعلق مقدمات شروع کئے۔

انہوں نے کہا کہ یہ مسلم لیگ ن ہی تھی جس نے جے یو آئی-ف کے مولانا فضل الرحمان کو "ڈیزل" کا خطاب دیا تھا کیونکہ انہوں نے پیپلز پارٹی سے پیسے لے کر ڈیزل پرمٹ بیچنے کا الزام لگایا تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ لیڈر کو مثال کے طور پر رہنمائی کرنی ہوتی ہے، اگر عوام دیکھے کہ ان کا لیڈر کرپٹ ہے تو لوگ بھی اس کی پیروی کریں گے۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جب کوئی قوم اخلاقی طور پر بدعنوان ہو جاتی ہے تو وہ محنت کرنا چھوڑ دیتے ہیں کیونکہ وہ بدعنوانی کا سہارا لیتے ہیں کیونکہ اس سے پیسہ آسان ہوتا ہے۔

اپوزیشن کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ ساڑھے تین سالوں میں پی ٹی آئی کی قیادت میں حکومت نے ملک کی بہتری کے لیے وہ کام کیے جن کی ملک میں مثال نہیں ملتی۔

وزیراعظم عمران خان نے اپنی حکومت کی کامیابیوں کی مزید تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت میں ملک نے خود کو مہلک کورونا وائرس وبائی مرض سے نکالا جس پر پوری دنیا نے پاکستان کو سراہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے بہت سارے میڈیا ہاؤسز صرف پیسے کے لیے کام کرتے ہیں اور کچھ تو غیر ملکی فنڈنگ بھی قبول کرتے ہیں، میں یہ بات عوام پر چھوڑتا ہوں کہ یہ جانیں کہ کون سے میڈیا ہاؤسز چوروں کے ساتھ کھڑے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قوم میڈیا کا مشاہدہ کر رہی ہے اور وہ دیکھ سکتی ہے کہ کون سا میڈیا ہاؤس پاکستان کے حق میں کام کر رہا ہے اور کون سا بکا ہوا ہے ۔