Aaj.tv Logo

اسلام آباد:اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی)وزرا ئے خارجہ اجلاس کے باعث اسلام آباد ریڈ زون کی سیکیورٹی رینجرز کے حوالے کردی گئی جبکہ ریڈ زون مکمل طور پر سیل کردیا گیا۔

او آئی سی وزرا ئے خارجہ کونسل کی سیکیورٹی کیلئے اسلام آباد ضلعی انتظامیہ نے خصوصی پلان کو حتمی شکل دے دی،ریڈ زون کو مکمل طور پر سیل کردیا گیا جبکہ ریڈ زون 22 سے 24 مارچ تک رینجرز کے حوالے کیا گیا ہے۔

او آئی سی کانفرنس کے دوران رینجرز کے علاوہ پاک فوج کے خصوصی دستے بھی سیکیورٹی پر مامور رہیں گے۔

او آئی سی وزرا ئے خارجہ کونسل کی سیکیورٹی کیلئے اسلام آباد میں 15ہزار سیکیورٹی اہلکار تعینات کئے گئے ہیں جن میں ایف سی ، رینجرز، پولیس ، اسپیشل برانچ اور پاک فوج کے اہلکارشامل ہیں۔

ریڈ زون میں جانے والے تمام راستوں کو غیر متعلقہ افراد اور ٹریفک کیلئے بند کر دیا گیا جبکہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ریڈ زون میں دفعہ 144کا نفاذ کر دیا ۔

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا کہ مؤثر سیکیورٹی کیلئے پارلیمنٹ ہاؤس اور ریڈ زون رینجرز کے حوالے کر دیا گیا، اگر ضرورت پڑی تو مزید نفری بھی طلب کی جاسکتی ہے۔

او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس کے باعث جہاں مارگلہ ٹریکس کو بھی بند کر دیا گیا ہے تو وہیں جڑواں شہروں میں عام تعلطیلات کا بھی اعلان کیا گیا تاکہ شہری غیر ضروری نقل و حمل نہ کریں اور سیکیورٹی کو یقینی بنایا جاسکے۔

او آئی سی کیا ہے؟

اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی )اقوام متحدہ کے بعد دُنیا کی دوسری بڑی بین الاقوامی تنظیم ہے، دنیا بھر کے 57 مسلم ممالک تنظیم کے رکن ہیں۔

اسلامی تعاون تنظیم کی بنیاد 1969 میں ایک چارٹر کے ذریعے رکھی گئی اور اس تنظیم کا صدر مقام سعودی عرب کے شہر جدہ میں قائم ہے۔

او آئی سی اپنے رکن ممالک سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں کو درپیش مسائل حل کرنے کیلئے بین الاقوامی میکنزم بشمول اقوام متحدہ ، حکومتوں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کی شراکت دار ہے۔

اسلامی تعاون تنظیم کی وزرائے خارجہ کونسل کے اب تک 47 اجلاس منعقد ہو چکے ہیں جبکہ پاکستان 1970، 1980، 1993 اور 2007 میں 4اجلاسوں کی میزبانی کر چکا ہے اور اب 5 ویں مرتبہ میزبانی کرنے جارہا ہے۔

او آئی سی وزرائے خارجہ کونسل کے اب تک 17 غیرمعمولی اجلاس ہو چکے ہیں،1994 میں پاکستان مقبوضہ کشمیر پر آو آئی سی کے رابطہ گروپ کی تشکیل میں کامیاب ہوا،پاکستان نے 1997 میں اسلامی تعاون تنظیم کے غیرمعمولی سربراہ اجلاس کی میزبانی کی۔

پاکستان نے او آئی سی میں اسلاموفوبیا اور اسلامی مقامات کے تحفظ پر مختلف قراردادیں بھی پیش کیں۔

او آئی سی کے فیصلوں پر عملدرآمد کا جائزہ لینے کیلئے ہر سال اجلاس ہوتا ہے، پاکستان ،سعودی عرب، ترکی، افغانستان ، ایران، انڈونیشیا، ملائشیا، اردن، کویت، لبنان، لیبیا، الجزائر،چاڈ، مصر، یمن، سوڈان، صومالیہ، فلسطین، مراکش، نائیجیریا او آئی سی کے بنیادی ارکان میں شامل ہیں۔