Aaj.tv Logo

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے وزیراعظم ہاؤس کو پاکستان ہاؤس میں تبدیل کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ سیاسی سرگرمیوں کی سب کو اجازت ہے مگر انتشار پھیلانے کی اجازت کسی کو نہیں دیں گے، اداروں کے خلاف مہم چلانے والے قانون کی گرفت میں آئیں گے۔

شہباز شریف نے کہا کہ اب صرف پنجاب نہیں پاکستان میں رفتار کے ساتھ کام ہوں گے، پارلیمان کی مدت ڈیڑھ سال ہے، ہم نے کتنا ساتھ رہنا ہے اس کا اتحادی مشاورت کے ساتھ مل کر فیصلہ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ (ن) لیگ کی سوچ رہی ہے کہ اصلاحات کے ساتھ الیکشن میں جائیں، ہمارے لیے سب سے بڑا چلینج تباہ حال معیشت کی بحالی اور مہنگائی پر قابو پانا ہے کیونکہ پی ٹی آئی خزانہ خالی چھوڑ کر گئی ہے، مہنگائی کم کرنے کے لیے مختصر مدتی اور میڈیم ٹرم پلان تشکیل دے رہے ہیں۔

وزیراعظم نے پیپلزپارٹی کی کابینہ کا حصہ بننے کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اتحادی حکومت ہے تو سب کو شامل کرنا پڑے گا، لیگی وزرا کے قلمدان کا حتمی فیصلہ نواز شریف کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ باتوں سے قومیں نہیں بنا کرتی، اتوار کو بھی کام کرنا پڑے گا، دو چھٹیاں خوشحال قومیں کرتی ہیں، آئین شکنوں کے خلاف سپریم کورٹ کے حکم پر من و عن عمل کریں گے، ملک میں سیاسی سرگرمیوں کی سب کو اجازت ہے مگر انتشار پھیلانے کی اجازت نہیں دیں گے اگر ایسا ہوا تو قانون اپنا راستہ خود بنائے گا۔

شہباز شریف نے کہا کہ ہم کسی کو کچھ نہیں کہیں گے، ادارے اپنا کام کریں گے، اداروں کے خلاف مہم چلانے والے قانون کی گرفت میں آئیں گے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کشمیر اور افغانستان پر بریفنگ پارلیمان میں ہوئی تو لیٹر گیٹ پر کیوں نہیں، مودی کو مشورہ دیا ہے کہ مسئلہ کشمیر حل کر کے پائیدار امن کی طرف چلیں، عمران خان دوست ممالک کو ناراض کر کے اور تعلقات خراب کر کے گئے ہیں، جو ممالک دوست بننا چاہتے تھے ان سے بھی ہمارے تعلقات خراب ہو گئے جس کو جلد بحال کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ تارکین وطن ہمارے سفیر ہیں، ان کو ووٹنگ کا پورا حق ہے، گورنر اسٹیٹ بینک کے مستقبل پر بھی مشاورت ہوگی، طعنہ دینے والے دیکھ لیں اللہ نے اچکن پہنا دی ہے، نیب نیازی گٹھ جوڑ کی چیرہ دستیاں سب کے سامنے ہیں۔

شہباز شریف نے وزیراعظم ہاؤس کو پاکستان ہاؤس میں تبدیل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پورے پاکستان سے بیوروکریسی لائیں گے، بیوروکریسی پر واضح کر دیا ہے کہ میرٹ سے ہٹ کر کوئی کام کہوں تو منع کر دیں۔