Aaj News

انڈیا میں ہیٹ ویو کوئلے کی شدید قلت میں اضافے کا باعث

انڈین وزیر کے مطابق یوکرین میں جنگ کی وجہ سے شدت اختیار کرنے والی کوئلے کی کمی کے باعث نئی دہلی میں بجلی کے بحران کا مسئلہ ہوسکتا ہے۔
شائع 01 مئ 2022 06:01pm
فوٹو: روئٹرز (فائل)
فوٹو: روئٹرز (فائل)

نئی دہلی: شمال مغربی انڈیا میں ریکارڈ توڑ "ہیٹ ڈوم' یا گرمی نے بجلی کی پیداوار کیلئے استعمال ہونے والے کوئلے کی شدید قلت کو مزید متاثر کردیا ہے، نتیجتاً انڈیا کے شہر دہلی میں بجلی جانے کے خدشات میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔

برطانوی اخبار فننانشل ٹائمز نے انڈین کے محکمہ موسمیات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ رواں ہفتے ہیٹ ویو میں شدت متوقع ہے اور اس میں دو مئی سے بعد کمی ہوگی۔

واضح رہے کہ ہیٹ ویو کی وجہ سے درجہ حرارت 45 سیلسیئس کے تجاوز کر گیا ہے۔

انڈیا میں مارچ سے بڑھنے والے درجہ حرارت کی وجہ سے بجلی کی طلب میں اضافہ ہوگیا ہے کیونکہ موسم کے باعث لوگوں نے اے سی کا استعمال زیادہ کردیا ہے۔

enter image description here
enter image description here

اس کے نتیجے میں کوئلے کی پہلے سے شدید قلت میں اضافہ ہوا ہے۔

کوئلے کا استعمال نئی دہلی اور قریب کے شہروں کی بجلی پیدا کرنے کیلئے ہوتا ہے۔

نئی دہلی کے درجہ حرارت میں 35 سے 43 ڈگری تک کا اضافہ قبل از وقت ہوگیا ہے، جس کی وجہ سے لاکھوں افراد متاثر ہوئے ہیں۔

ممبئی میں مادھو تھومبر نامی ایک ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ 'ہمارے پاس گزشتہ دو ہفتوں سے گرمی سے ہونے والی تھکن، پیچس، جسم میں درد اور وائرل بخار کے کئی کیسز میں اضافہ ہوا ہے۔'

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'رواں برس گرمی بہت شدید ہے اور وقت سے پہلے آگئی ہے۔'

فنانشل ٹائمز کے مطابق طویل مدتی ہیٹ ویو کی وجہ ہے موسم کے مستقل ایک جیسے رہنے والے پیٹرن، جسے 'ہیٹ ڈوم' کہا گیا ہے۔

یہ پیٹرن ویسا ہی ہے جس کی وجہ سے گزشتہ برس کینیڈا اور شمال مغربی امریکہ میں شدید گرمی اور آگ لگنے کے واقعات ہوئے تھے۔

رواں برس مارچ کا مہینہ شمال مغربی انڈیا میں ایک صدی سے زیادہ کے عرصے میں سب سے زیادہ گرم مارچ تھا اور اپریل بھی ریکارڈ قائم کرنے کیلئے تیار ہے۔

موسم کا یہ پیٹرن کیسے بنتا ہے؟

امریکی ریاست میساچوسٹس میں وڈویل کلائمیٹ ریسرچ کے زیکیری زوبل کے مطابق 'جیٹ سٹریم' کے سست ہونے کی وجہ سے مستقل رہنے والے موسم کا پیٹرن بنتا ہے جس کی وجہ سے طویل مدتی ہیٹ ویو آتی ہے۔

جیٹ سٹریم فضا میں ہوا کا تیز رفتاری سے گھومنے والا بینڈ ہے، جو شمالی نصف کرہ کے موسمی پیٹرن کو کنٹرل کرتا ہے۔

زیکیری زوبل کا کہنا ہے کہ زمین جیسے جیسے گرم ہوتی جائے گی ہیٹ ویو 'مزید شدت اختیار کرے گی اور طویل مدت کے لیے آیا کرے گی۔'

ان کا مزید کہنا تھا کہ دنیا کے ایسے بھی حصے ہوں گے جو کچھ وقت کے لیے رہنے کے قابل نہیں بچیں گے۔

انڈیا میں کوئلے کی قلت

نئی دہلی کے وزیر برائے صحت اور توانائی ستیندر جیئن نے ٹوئٹر پر ایک ویڈیو میں کہا ہے کہ یوکرین میں جنگ اور عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے شدت اختیار کرنے والی کوئلے کی کمی کے باعث نئی دہلی میں بجلی کے بحران کا مسئلہ ہوسکتا ہے۔

'کئی پاور پلانٹس پر ایک دن سے بھی کم کا کوئلہ بچا ہے۔'

اپریل میں کاشت کی جانے والی گندم کی فصل بھی طویل ہیٹ ویو کی وجہ سے متاثر ہو سکتی ہے، اور خدشہ سے کہ عالمی سطح پر گندم کی کمی ہو۔

مارچ

Ukraine

Heatwave

Comments are closed on this story.