Aaj News

بدھ, جون 12, 2024  
05 Dhul-Hijjah 1445  

عمران خان نے وزیراعظم شہباز شریف کو میر جعفر قرار دے دیا

عمران خان نے مزید کہا کہ ڈان لیکس میں نواز شریف نے کہا میں تو بھارت سے دوستی کرنا چاہتا ہوں فوج نہیں کرنا چاہتی، کبھی نواز اور شہباز کے منہ سے کشمیر کی بات نہیں نکلی لیکن میرے دور میں مودی کو فوج کے خلاف بات کرنے کی جرات نہیں تھی۔
شائع 10 مئ 2022 11:10pm
عمران خان کا جہلم میں جلسہ کے شرکاء سے خطاب۔  فوٹو — اسکرین گریب/ آج نیوز
عمران خان کا جہلم میں جلسہ کے شرکاء سے خطاب۔ فوٹو — اسکرین گریب/ آج نیوز

جہلم: سابق وزیراعظم و چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان نے وزیراعظم شہباز شریف کو میر جعفر قرار دے دیا ہے۔

عمران خان کا جہلم میں جلسہ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ کل شہباز شریف نے اپنی تقریر میں مجھے فوج کے خلاف بات کرنے سے انتباہ کیا، انہیں شرم آنی چاہیے، شہباز شریف میر جعفر ہے، میر جعفر نے سراج الدولہ سے غداری کی اور پھر انگریزوں نے میر جعفر کو اوپر اٹھایا۔

انہوں نے کہا کہ سندھ کو آصف زرداری سے آزاد کرانا ہے، زرداری تم اور تمہارا بیٹا تیار ہوجاؤ میں سندھ آرہا ہوں، تم نے لانچوں اور جہازوں میں ڈالرز بھر بھر کر دبئی بھیجے ہیں، میں نے کہا تھا کہ اقتدار سے نکلوں گا تو تمہارے لئے زیادہ خطرناک بنوں گا کیونکہ اس وقت بند تھا، آفس میں سارا دن کام کرتا تھا جس کی وجہ سے وزن میں بھی اضافہ ہوگیا تھا۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے شرکا کو پارٹی سے زیادہ قومی پرچم لانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ بہت کم ایسا ہوتا ہےجس سے ساری قوم اکھٹی ہوجاتی ہے، ایک پلان انسان اور دوسرا اللہ بناتا ہے، پہلے سوچا تھا 20 لاکھ لوگ اسلام آباد پہنچیں گے لیکن اب لگ رہا ہے کہ 25 لاکھ لوگ آئیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کا جینا مرنا پاکستان میں ہے، میں تو دعا کرتا ہوں میرا نام بھی ای سی ایل میں ڈال دیں کیونکہ میں پاکستان سے باہر نہیں جانا چاہتا۔

چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ بھارت نے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کیا، دشمنوں کی ملک کو تین تکڑوں میں تقسیم کرنے کی کوشش ہے، نوازشریف بھارت میں مودی کے جوتے پالش کرنے گیا، فارن آفس سے بھی کہا گیا کہ ہندوستان پر کوئی تنقید نہ ہو۔

عمران خان نے مزید کہا کہ ڈان لیکس میں نواز شریف نے کہا میں تو بھارت سے دوستی کرنا چاہتا ہوں فوج نہیں کرنا چاہتی، کبھی نواز اور شہباز کے منہ سے کشمیر کی بات نہیں نکلی لیکن میرے دور میں مودی کو فوج کے خلاف بات کرنے کی جرات نہیں تھی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کے ڈونلڈ لو نے ہمارے سفیر کو بلاکر کہتا ہے عمران خان کو عدم اعتماد سے نہ ہٹایا تو مشکل وقت آئے گا، پھر کہتا ہے کہ اگر عمران کو ہٹا دیا اور چیری بلاسم کو لے آئے تو سب معاف کردیا جائے گا، سازش ہوتی ہے تو یہاں کے میر جعفر اور میر صادق اس میں شرکت کرتے ہیں اور ایک منتخب وزیراعظم کو نکال دیا جاتا ہے جس کے بعد بڑے بڑے ڈاکوؤں کو ملک پر مسلط کیا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فضل الرحمان نے ایجوکیشن کی نہیں کمیونیکیشن کی وزارت سنبھالی کیونکہ انہیں معلوم تھا اس وزارت سے زیادہ پیسہ بنے گا، چوروں کی کابینہ میں 60 فیصد ضمانت پر ہیں، زرداری نے بھی اربوں روپے کا حساب دینا ہے جب کہ ایک مفرور، سزا یافتہ نے ساری کابینہ کو لندن بلالیا ہے جو عوام کے پیسے سے سفر کر رہے ہیں اور وہاں جا کر ان سے ہدایت لیں گے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ شہباز شریف نے وزارت عظمیٰ سمبھالتے ہی کہا کہ ہم مودی سے دوستی کرنا چاہتے ہیں، دراصل جو انہیں لے کر آئے ہیں انہوں نے مودی سے دوستی کا حکم دیا ہے، روس پاکستان کو تیل اور گندم 30 فیصد کم پر دینے کیلئے تیار ہوگیا تھا، کیا شہباز میں ہمت ہے روس سے بات کرے کیونکہ اس کی اجازت مانگنے کیلئےانہیں لوگوں کے بوٹ پالش کرنے ہوں گے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ بچوں کو نہیں پتہ چیری بلاسم کون ہے، چیری بلاسم کا بڑا بھائی نواز شریف، اس کی بھتیجی فوج کو برا بھلا کہتے ہیں اور اور یہخود بوٹ پالش کرتا ہے۔

چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ امریکا ہندوستان کو کچھ نہیں کہتا کیونکہ ان کی آزاد خارجہ پالیسی ہے، پیسے کے غلام کبھی عوام کے لئے نہیں کھڑے ہوتے۔

انہوں نے مزید کہا کہ باہر جاکر دوست ملکوں سے پیسے مانگنے میں سب سے زیادہ شرم آئی کیونکہ میں نے کبھی اپنے والد سے پیسے نہیں مانگے اور نہ میں نے کبھی قوم کا پیسہ فضول خرچ کرنے دیا۔

imran khan

PTI jalsa