Aaj.tv Logo

سندھ ہائیکورٹ میں دعا زہرا کی بازیابی کی درخواست دائر

اپ ڈیٹ 05 جولائ 2022
<p>درخواست میں یہ موقف اپنایا گیا ہے کہ دعا زہرا کو ظہیراحمد نے اغواء کیا ہے: فوٹو: (فائل)</p>

درخواست میں یہ موقف اپنایا گیا ہے کہ دعا زہرا کو ظہیراحمد نے اغواء کیا ہے: فوٹو: (فائل)

کراچی : سندھ ہائیکورٹ میں دعا زہرا کی بازیابی کی نئی درخواست دائر کردی گئی۔

سندھ ہائیکورت میں دائر کی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ دعا زہرا کو ظہیر احمد نے اغواء کرلیا ہے، جبکہ دعا زہرا کے اغواء کا واقعہ ہوا اس وقت دعا کی عمر 13 سال 11 ماہ اور 19 دن تھی۔

دعا زہرا کے والد مہدی علی کاظمی کی جانب سے دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ دعا زہرا کی عمر سے متعلق نادرا دستاویزات، تعلیمی اسناد، پاسپورٹ برتھ سرٹیفیکیٹ موجود ہے ،ظہیر احمد نے مغویہ کو پنجاب لے جاکر چائلڈ میرج کرلی ہے۔

درخواست کے مطابق نکاح نامے پر تاریخ 17 اپریل درج ہے اور 18 سال ظاہر تاکہ نکاح کو جائز قرار دیا جائے ،7 مئی 2022 کو دعا زہرا کی بازیابی کی درخواست سندھ ہائیکورٹ میں دائر کی تھی، پولیس نے 6 جون کو دعا زہرا کو سندھ ہائیکورٹ میں پیش کیا تھا۔

دائر درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عدالت نے دعا زہرا کی عمر کے تعین کا حکم دیا تھا ،دعا زہرا کا سنگل میڈیکل بورڈ نے بون اوسیفیکشن کے بعد عمر 17 سال کے قریب بتائی تھی، عدالت نے دعا زہرا کو اپنی مرضی سے کسی کے ساتھ بھی جانے کی اجازات دی تھی۔

نئے میڈیکل بورڈ کی رپورٹ کے مطابق دعا زہرا کی عمر 16 سال سے کم ثابت ہوچکی ہے،پنجاب ریسٹرن میرج ایکٹ 2016 کے مطابق شادی غیر قانونی ہے، مغویہ کے ساتھ اگر جنسی زیادتی ثابت ہوتی ہے تو ملزم ظہیر کے خلاف کاروائی کی جائے۔

درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ 14 سالہ کم عمر دعا زہرا کو بازیاب کرانے کا حکم دیا جا ئے، دعا زہرا کو ظہیر احمد کی غیر قانونی حراست سے بازیاب کرا کہ والدین کے حوالے کیا جائے۔

درخواست میں محکمہ داخلہ سندھ، آئی جی سندھ ،ایس ایچ او الفلاح ،ظہیر احمد و دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔