Aaj News

کھیل کے میدان میں پاکستانی خواتین آخر پیچھے کیوں؟

عورتوں کو کمزوراورصنف نازک قراردے کرکھیلوں کی سرگرمیوں سے دوررکھا جاتا ہے
اپ ڈیٹ 26 اگست 2022 06:23pm

جس طرح زندگی کے دیگر معاملات میں خواتین کوامتیازی سلوک اوررکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ،اسی طرح کھیل اوراس کی دنیا میں نام بنانا بھی خواتین کیلیےایک دشوارمرحلہ ہے۔عموماً ہمارامعاشرہ اپنی روایات کےبرعکس چیزوں کوآسانی سےقبول نہیں کرتا۔ لڑکیوں کاجسمانی سرگرمیوں میں حصہ لینا بھی انہی فرسودہ روایات اورکلچرکے منافی ہے۔ جسمانی سرگرمیاں ایک انسان کی خواہ وہ مرد ہو یا عورت ذہنی،سماجی اور جسمانی نشوونما کے لیے بہت اہم ہوتی ہیں۔ لیکن تنگ نظری اوردقیانوس تصورات کے مطابق عورتوں کو کمزوراورصنف نازک قراردے کرکھیلوں کی سرگرمیوں سے دوررکھا جاتا ہے اوریہی صنفی تعصب کو جنم دیتا ہے۔

پاکستان میں خواتین کوسہولیات و وسائل کی کمی ، فیملی کی جانب سےعدم تعاون اورسماجی و مذہبی پابندیوں کے پیش نظرکھیل میں دلچسپی ہونے کے باوجود اس سے دور رہنا پڑتا ہے۔ بچپن ہی سے ان کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ یہ منفی سوچ اورحدود بچیوں کے ذہن پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں اور وہ خود بھی بھی اسے وقت کا ضیاع سمجھ کر اہمیت نہیں دیتیں ۔

اگر کوئی خاتون کھلاڑی ان تمام مشکلات کوعبورکرکے کھیل کے میدان میں داخل ہو بھی جاتی ہے تو وہاں بھی مردوں کی اکثریت ہونے کی وجہ سےاسے جنسی تعصب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عورتوں کو اسپورٹس میں وہ توجہ اہمیت،سہولیات اور پذیرائی نہیں ملتی جو مردوں کو حاصل ہوتی ہے، اسے محض شوق سمجھا جاتا ہے اور وہ اسے پروفیشن کے طور پر نہیں اپنا پاتیں۔عدم توجہ اورمساوی اہمیت نہ ملنے پرمقابلوں میں اچھی کارکردگی کے باوجود ہماری کھلاڑی انٹرنیشنل لیول پر نتائج حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔

نچلی سطح پر ان کھلاڑیوں کو معاشی مسائل، ٹریننگ کے لیے کورٹ ، کوچز، سہولیات کی عدم دستیابی کا سامنا رہتا ہے۔کرپشن اوروسائل کی کمی کا بہانہ بنا کر پاکستان اسپورٹس بورڈ اور پاکستان اولمپکس ایسوسی ایشن پورا سال ان کھلاڑیوں کے لیے مقابلوں کا انعقاد نہیں کرواتی،جس سے ان کی ٹریننگ پراثر پڑتا ہے ۔ کوئی مربوط نظام اورمناسب حکمت عملی آج تک قائم نہ ہوسکی جس سے ان کھلاڑیوں کو فائدہ ہوتا۔

اس کےعلاوہ کھیلوں کی بہت سی فیڈریشنز سیاسی روابط کے ذریعے بنائی جاتی ہیں جو پہلے ہی سے مردوں کے زیر تسلط ہیں ، اس کا بنیادی نقصان یہ ہے کہ کھیلوں میں خواتین کو اچھی نمائندگی نہیں ملتی۔

حال ہی میں یہ خبر سامنے آئی کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی صوبائی وزیر برائے ترقی خواتین شہلا رضا نے پاکستان کی خواتین ہاکی ٹیم میں بطورٹیم مینجرخود کو شامل کرلیا۔ ٹیم خواتین انڈورہاکی ایشیا کپ کے لیے بنکاک جا رہی ہے، اگرچہ ان کے ہاکی فیڈریشن سے تعلقات ہوں جو فائدہ مند ثابت ہوسکتے ہیں لیکن کسی بھی سیاسی شخصیت کون کھیلوں کی فیڈریشن میں عہدہ نہیں رکھنا چاہیے تاکہ مفادات کا تصادم اور ٹیم میں سیاسی بھرتیاں نہ جنم لیں۔ کھیلوں سے وابستہ پیشہ ور افراد کو ہی یہ عہدے سنبھالنے چاہیئیں، اس سے میرٹ کو فروغ ملتا ہے۔

اداروں اور میڈیا کی طرف سے توجہ کے فقدان کے باعث خواتین کھلاڑیوں کو اسپانسرشپ کی کمی کا بھی سامنا رہتا ہے۔اور فنڈز کی تقسیم اور کھیلوں کے معاوضے کے معاملات میں بھی مردوں اور عورتوں میں خاصا فرق ہے۔2020 میں پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی جانب سے خواتین کرکٹ ٹیم کے لیے بجٹ کا صرف 5 فیصد حصہ مختص کیا گیا تھا جبکہ 19 فیصد حصہ مردوں کے لیے تھا ۔یہ غیر مساوی تقسیم عورتوں کو اپنےمرد ہم منصب اوردیگر ممالک کی کھلاڑیوں سے پیچھے کرتی ہے۔ اس کے علاوہ دیگرکھیلوں میں اتنی رقم بھی نہیں ملتی اور بہت سی باصلاحیت خواتین پیچھے رہ جاتی ہیں۔ بعض کھلاڑیوں کے مطابق کوچنگ اسٹاف کا ناروا سلوک اور جنسی استحصال کے واقعات بھی نئے کھلاڑیوں کی حوصلہ شکنی کا باعث بنتے ہیں۔

ان تمام رکاوٹوں کے باوجود پاکستان کی باہمت خواتین نے قومی اور بین الاقوامی سطح پراپنا لوہا منوایا ہے، چاہے وہ ٹیبل ٹینس اوربیڈمنٹن کے سنہری دور کی شکورسسٹرز ،نسیم نازلی،افشاں شکیل‎ ہوں یاحالیہ دور میں ماحورشہزاد،اسکواش میں نورینہ شمس، ماریہ طورپکئی ، سوئمنگ میں جہاں آرا نبی، اور مکسڈ مارشل آرٹ فائٹر انیتا کریم، ۔ مگر ان سب کوکئی مشکلات اور کھٹن مسائل کا سامنا ہے جسے دور کرنے کے لیے توجہ درکار ہے۔

دورحاضر کا تقاضہ ہے کہ بشمول کرکٹ خواتین کےدیگرکھیلوں پرانویسٹ کیا جائے، ان کی بھرپور پذیرائی اورحمایت کی جائےاورساتھ ہی اس سوچ میں بھی تبدیلی کی ضرورت ہے کہ لڑکیاں کھیلوں میں حصہ نہیں لے سکتیں یا انہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے۔

اگر ہمارا کلچر لڑکیوں کو کھیلنےکودنے اور دوڑنے سے روکے گاتو وہ اپنے اندر کی صلاحیت کو کیسے پہچانیں گی؟ کیسے جانیں گی کہ وہ کن حیرت انگیز صلاحیتوں کی حامل ہیں؟ ہمیں نوجوان لڑکیوں کو لڑکوں کی طرح مضبوط اور پراعتماد بنانے کے لیے آزادی اور اوزاردینے کی ضرورت ہے، یہ سب اقدامات ہی آنے والے کل میں خواتین کے لیے نئی راہیں ہموارکرسکتے ہیں۔

محمد عدنان صحافی اورمحقق ہونے کے علاوہ موناش یونیورسٹی اسکول آف میڈیا، فلم اینڈ جرنلزم میں پی ایچ ڈی کے طالب علم ہیں ،ان سے ٹویٹر پر @Iammadnan کے ہینڈل پررابطہ کیا جا سکتا ہے۔

Comments are closed on this story.