Aaj News

کندھکوٹ میں لکھ پتی بھکاریوں کی بھرمار، شہریوں کا جینا دوبھر

بھکاریوں کی تعداد 50 ہزار سے زائد، پیشہ ور گداگروں نے لوگوں کا جینا اجیرن کردیا
شائع 17 اکتوبر 2022 04:10pm
<p>تصویر بزریعہ حضور بخش منگی، نمائندہ آج نیوز</p>

تصویر بزریعہ حضور بخش منگی، نمائندہ آج نیوز

پاکستان کے ہر شہر کی ہر سڑک، ہر گلی، ہر محلّے، ہر بازار میں گدادگروں کی بے شمار تعداد دیکھنے کو ملتی ہے۔ کندھ کوٹ میں بھی کچھ ایسا ہی حال ہے۔ اکثر ہوٹل، بس اسٹاپ، بازاروں میں عورتیں، بچے، پھٹے پرانے کپڑے اور پاؤں میں ٹوٹی چپل پہنے بلند آواز کے ساتھ اپنے مخصوص انداز میں بھیک مانگتے نظر آتے ہیں۔

بھکاریوں کی تعداد 50 ہزار سے زائد، پیشہ ور گداگروں نے لوگوں کا جینا اجیرن کردیا

گوگل کے مطابق پاکستان میں سال 2021 کے سروے کے مطابق 25 ملین پیشہ ور بھکاری ریکارڈ کئے گئے تھے۔

بھیک مانگنے والے ایک ہی آواز سے بھینک مانگتے نظر آتے ہیں، ”اللہ کے نام پر ایک روپیہ دے دو بھائی۔۔۔“

 تصویر بزریعہ حضور بخش منگی، نمائندہ آج نیوز
تصویر بزریعہ حضور بخش منگی، نمائندہ آج نیوز

پیشہ ور گداگروں کی کندھکوٹ کے رہائشی مقامات ساقی موڑ ، مٹھا چوک ، جھولی لال ، بڑدی چوک ، کالٹیکس ، جھولے لال ، راجا پیٹرول پمپ ، گولہ موڑ ، ٹول پلازہ ، اکبر موڑ چیک پوسٹ کے سامنے ، بھکاریوں کے رہائش گاہیں بنی ہوئی ہیں جوخیمہ بستیوں میں رہائش پذیر ہیں۔

یہ خاندانی پیشہ ور گداگر ہوتے ہیں جو اپنی خواتین اور بچوں کو بھیک مانگنے کے نئے انداز سکھاتے ہیں، پھر انہیں مارکیٹ کے چوراہوں ، بازاروں ، مساجدوں ، مندروں کے دروازوں پر چھوڑ آتے ہیں جو صبح سے شام تک بھیک مانتے ہیں۔

سوشل ویلفیئر ڈپارٹمینٹ کے عملدار یاسین بجارانی کے مطابق کشمور ضلع 10 لاکھ 89 ہزار نفوس پر مشتمل ہے، جس میں 75 فیصد لوگ غربت اور بے بسی کا شکار ہیں جو تنگ دستی اور معذوری کے باعث گداگری کا پیشہ اختیار کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں، جبکہ 25 فیصد لوگ کاروباری ، ساہوکار، جاگیردار اور نوکری پیشہ افراد ہیں۔

پولیس ذرائع کے مطابق پیشہ ور گداگروں کے مقامات کے ٹھیکے ہوتے ہیں، دہاڑی پر پیشہ ور بھکاریوں کو پروٹیکشن دی جاتی ہے جو روزانہ ہزاروں روپے کما کر پولیس کے حدود ایس ایچ او کا حصہ نکالتے ہیں، ایس ایچ او کا خاص مقررہ بندہ ان سے روزانہ ایک ہزار روپیہ فی کس ریکور کرتا ہے۔

 تصویر بزریعہ حضور بخش منگی، نمائندہ آج نیوز
تصویر بزریعہ حضور بخش منگی، نمائندہ آج نیوز

ایسے ٹھیکیدار پیشہ ور بھکاری آپس میں لڑتے جھگڑتے ہیں ایک کہتا ہے یہ چوک مجھے دے دو میں بہت پیسہ کما سکتا ہوں پھر انہیں ٹرائل کے بنیاد پر کچھ روز مقرر کیا جاتا ہے جو زیادہ بھیک مانگتا ہے اسے میرٹ کے بنیاد پر اسے اس چوک یا شاہراہ پر رکھ دیتے ہیں، یہ سب زبانی کلامی طے ہوتا ہے اس طرح بھکاریوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔

جنوری 2019 میں اقوام متحدہ کی پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق 22 کروڑ نفوس پر مشتمل پاکستان کی 50 فیصد آبادی انتہائی غربت کی زندگی گزار رہی ہے، جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ غریبوں کے لیے ہر سال 70 ارب روپے مختص کرتی ہے۔

فلور مل کے سامنے ایک ملاں کا مشہور ہوٹل ہے جس کی چائے پینے کندھ کوٹ کے شہری روزانہ بڑی مقدار میں آتے ہیں، وہاں پر ایک بھکاری آتا ہے جس کا نام محمد بخش ہے جو پرانے کپڑے پہنے سفید داڑھی کے ساتھ انگلی اٹھا کر آواز دیتا ہے ”میرے پاس آٹا نہیں مجھے آٹا لے کر دو۔۔۔“

ویسی تو وہ بہت ہٹا کٹا صحت مند ہے مگر اس کے مانگنے کا انداز ایسا ہے کہ وہ روتا ہوا دکھ اور درد سے آٹے کا سوال کرتا ہے ، جس کی وجھ سے لوگ اسے ایک سو سے دو سو روپے بھی دے دیتے ہیں، اس کے متعلق تحقیقات کی تو مجھے معلوم ہوا کہ اس کے پاس اپنی ملکیت بھی موجود ہے، پچاس جریب زمین کا مالک نکلا، اس کو کیا ضرورت آن پڑی جو وہ بھیک مانگنے پر مجبور ہوا؟

 تصویر بزریعہ حضور بخش منگی، نمائندہ آج نیوز
تصویر بزریعہ حضور بخش منگی، نمائندہ آج نیوز

ایڈوکیٹ محسن پٹھان صدر ڈسٹرکٹ بار کندھ کوٹ نے بتایا کہ پیشہ ور بھکاریوں کے قانون اینٹی بیگرز ایکٹ 2020 کے مطابق پیشہ ور بھکاریوں پر ایک سے تین سال سزا اور کسی انسٹیٹیوٹ میں داخل کرانا ہے تاکہ وہ بھکاری کسی ہنر کے کام کا لائق بن سکے۔ اس پر عملدرآمد کرانا پولیس کا کام ہے، ان کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا جائے تو پھر یہ قانون لاگو ہوسکتا ہے۔

ایڈوکیٹ محسن پٹھان نے اینٹی بیگرز ایکٹ 2020 کا حوالہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ بشرطیکہ اس طرح کی رپورٹ کا تعلق اس کے کردار، صحت یا طرز عمل، یا ان حالات سے ہو جس میں وہ بھکاری رہ رہا ہے۔ عدالت اگر مناسب سمجھے تو اس کا مادہ بھکاری کو بتا سکتی ہے یا، اس صورت میں یا انحصار کرنے والے، متعلقہ والدین یا سرپرست کو اور بھکاری یا سرپرست کو دے سکتے ہیں کیونکہ کیس ثبوت پیش کرنے کا ایک موقع ہو سکتا ہے جو رپورٹ میں بیان کردہ معاملات سے متعلق ہو سکتا ہے۔

 تصویر بزریعہ حضور بخش منگی، نمائندہ آج نیوز
تصویر بزریعہ حضور بخش منگی، نمائندہ آج نیوز

بھکاری کے طور پر حراست کے بعد بھیک مانگنے کی سزا

جو بھی پہلے سیکشن کی دفعات کے مطابق کسی سرٹیفائیڈ انسٹی ٹیوشن میں نظربند رہا ہو اور دوبارہ بھیک مانگتے ہوئے پایا جائے وہ قابلِ سزا ہو گا۔

کسی شخص کو پہلی دفعہ ذیلی دفعہ (1) کے تحت مجرم قرار دیا گیا تو عدالت‏ حکم دے گی کہ اسے کسی سرٹیفائیڈ انسٹی ٹیوشن میں کم از کم تین سال کے لیے نظر بند رکھا جائے۔ تین سال سے کم اور سات سال سے زیادہ نہیں۔ عدالت اس طرح کی حراست کی کسی بھی مدت کو تبدیل کر سکتے ہیں۔

جب کسی شخص کو دوسری یا اس کے بعد کی ذیلی دفعہ (1) کے لیے سزا سنائی گئی ہو، عدالت اسے حکم دے گی کہ اسے دس سال کے دوران کسی سرٹیفائیڈ انسٹی ٹیوشن مونو ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ، خواتین کے لیے گھریلو ہنری انسٹیٹیوٹ میں نظربند رکھا جائے، تاکہ سزا کے دوران وہ خود کفیل بن سکیں۔

 تصویر بزریعہ حضور بخش منگی، نمائندہ آج نیوز
تصویر بزریعہ حضور بخش منگی، نمائندہ آج نیوز

لیگل ایڈوائیز کا بیگرز ایکٹ پر عملدرآمد کرانے کا موقف

اس حوالے سے ایس ایس پی زبیر نظیر شیخ سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے اپنے لیگل ایڈوائیزر سے رابطہ کرنے کو کہا۔

ڈسٹرکٹ پولیس کے لیگل ایڈوائیزر ایڈوکیٹ صاحب ڈنو بنگوار نے بتایا کہ بھکاری ایکٹ 2020 پاس تو ہوچکا ہے مگر اس پر عملدرآمد کرانے کے لئے صدر مملکت کی جانب سے ایک گزیٹڈ نوٹیفکیشن نکالا جاتا ہے جو اس وقت تک نہیں نکالا گیا ہے، جب تک گزیٹیڈ نوٹیفکیشن نہیں نکلے گا تب تک اس ایکٹ پر عملدرآمد نہیں کرایا جاسکے گا، میں نے اس کے متعلق معلوم کیا کہ آخر کار اس ایکٹ پر کیوں صدر پاکستان نے عملدرآمد کرانے کے لئے گزیٹڈ نوٹفکیشن نہیں جاری کیا؟ تو اس کے جواب میں سرکاری وکیل نے کہا کہ مجھے اس کا کوئی علم نہیں۔ ہمارا کام ہے جب تک صدر صاحب گزیٹڈ نوٹفیکیشن جاری نہیں کرتا اس ایکٹ پر تب تک عملدرآمد نہیں ہوسکتا۔

اناج منڈی کے صدر سیٹھ نند لال نے بتایا کہ پیشہ ور بھکاریوں نے جینا اجیرن کیا ہوا ہے، خاص کر جمعرات کے دن خواتین بچوں سمیت کاروبار کے دوران پیچھے پڑ جاتے ہیں، جب تک انہیں دس روپے نہیں ملتے جان نہیں چھوڑتے، جن کی وجہ سے کاروبار میں رکاوٹیں ہوتی ہیں، ان پیشہ ور بھکاریوں کو گرفتار کیا جائے جن کی وجہ سے اصل مستحقین معذور افراد خیرات سے محروم رہتے ہیں، سب سے بڑی اناج منڈی میں جتنے بھی بیوپاری ہیں وہ ان بھکاریوں سے پریشان ہیں، پولیس کو کئی بار شکایات درج کروائیں ہیں مگر پولیس ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتی۔

سماجی کارکن ندیم ملک کا کہنا ہے کہ گداگر محمد بخش کا پیچھا کیا اس کا گھر جھوپڑی نما تھا اور اس کے تین بچے اور ایک بیوی ہے، اس کے بچوں میں دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔ ان کے اہل خانہ نے بتایا کہ اس کے نام پر کئی جائیدادیں بھی ہیں مگر پھر بھی بھیک مانگنے والی رقم سے گزارا کراتا ہے، تاکہ اس کی جائیداد ختم نا ہوسکے۔

بھیک مانگنے والے محمد بخش کی ملکیت لگ بھگ پچاس لاکھ کی بنتی ہے، اتنی ملکیت کا مالک بھکاری بن کر بچوں کا گزر کرتا ہے، جس کی وجہ سے اصل حقدار گداگر محروم رہتے ہیں۔

بی سیکشن تھانہ کے ایس ایچ او عبدالقادر کے مطابق کئی بار اس بھکاری کو گرفتار کیا تاکہ یہ اس پیشے سے دور ہوسکے مگر دو دن یا تین دن تھانے میں بند کرنے کے باوجود اسے چھڑانے کوئی نہیں آتا، پھر ہمیں منتیں کرتا ہے کہ خدا کے لئے میرے گھر میں آٹا نہیں مجھے ایک روپیہ دے دو میرے بچے بھوکے ہیں۔ یہ اس طرح اپنے پیشے میں ماہر ہے کہ سامنے پتھر دل شخص کو بھی اس پر ترس آجاتا ہے۔

بھکاریوں کی اعداد و شمار کا تو کسی کو علم نہیں مگر اس طرح گداگروں کی تعداد دن بدن بڑھتی جارہی ہے، صرف اللہ کا نام استعمال کرتے ہوئے ایک ہزار سے دو ہزار فری میں کمالیتے ہیں جس سے ان کا گزارا ہو جاتا ہے۔

پیشہ ور گداگری کے حوالے سے اسلام کیا کہتا ہے؟

مفتی عبدالرحیم پٹھان نے ایک حدیث بیان فرمائی کہ گداگری حرام ہے، حدیث نبوی ﷺ میں ایک شخص حضور اکرم ﷺ کے پاس کچھ مانگنے آیا، تو حضور اکرم ﷺ نے فرمایا کہ آپ کے گھر میں کیا یے ؟ اس شخص نے کہا کہ ایک چادر اور ایک پیالہ ہے، حضور ﷺ نے فرمایا جاکر لے آؤ، وہ شخص ایک چادر اور پیالہ لے آیا، حضور ﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہِ اجمعین کے سامنے چادر اور پیالہ رکھا اور کہا یہ کتنے میں خریدو گے، صحابہ کرام نے کہا کہ دونوں پرانی چیزیں ہیں ایک صحابہ نے کہا کہ دونوں چیزوں کا ایک درہم، دوسرے صحابہ نے کہا دو درہم، جس پر حضور ﷺ نے چادر اور پیالہ دو درہم میں صحابہ کے حوالے کیا، دو درہم اس شخص کو دیئے اور کہا ایک درہم سے اپنے گھر کا راشن لے کر دو اور ایک سے جاکر کلہاڑا خرید لاؤ، وہ شخص گھر گیا ایک درہم سے راشن لیا جبکہ دوسرے درہم سے کلہاڑا خریدا اور حضور ﷺ کے پاس پیش ہوا، حضور ﷺ نے اپنے ہاتھوں سے کھجور کا ڈنڈا بنا کر اس کلہاڑے میں ڈال دیا، پھر حضور ﷺ نے فرمایا جاکر لکڑیاں کاٹ کر میرے پاس لے آؤ، وہ شخص لکڑیاں کاٹ کر لے آیا حضور ﷺ نے اسے صحابہ میں فروخت کیا اسی طرح 15 دن کے اندر اسے اتنے درہم ملنے لگے کہ اس کے گھر میں خوشحالی آگئی، پھر حضور اکرم ﷺ نے فرمایا، بھیک مانگنا حرام ہے لوگ خدا پر یقین رکھیں اور دنیا کے اندر خود کمانا سیکھیں، کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلائیں۔

مفتی عبدالرحیم پٹھان نے کہا کہ اسی طرح اسلام پر عمل کرکے ریاست اپنی ذمہ داریاں نبھائے اور پیشہ ور گداگروں کو روزگار فراہم کرے تو اس بھینک جیسی لعنت سے چھٹکارا حاصل ہوسکے گا۔

Kashmor Kandhkot District

Beggars

Mafia

Comments are closed on this story.

مقبول ترین