میر رضا نے قتل سے قبل کن دو افراد سے فون پر بات کی تھی؟ تفصیلات سامنے آگئیں
کراچی کے ہائی پروفائل میر رضا علی قتل کیس نے تفتیش کے دوران پولیس، میڈیکل بورڈ اور دیگر تفتیشی اداروں کی دوڑیں لگا دیں، میر رضا نے قتل ہونے سے قبل رات گئے دو افراد سے ٹیلی فونک گفتگو کی، جن کی تفصیلات آج نیوز نے حاصل کرلی ہیں۔ دوسری جانب کیس کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی نئی تحقیقاتی کمیٹی کا اجلاس کل ہوگا، جس میں آخری فون کال کرنے والے اور آخری پیغامات بھجنے والے افراد سے تفتیش کی جائے گی۔
کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا علی کی پراسرار موت کا معاملہ اب ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے، قبر کشائی، دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ اور قتل کی دفعات کے اضافے کے بعد کیس کی تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع ہو گیا ہے۔
آج نیوز کو حاصل ہونے والی تفتیشی معلومات 28 جولائی کو میر رضا علی کی سرگرمیوں، ٹیلی فون کالز اور آخری پیغامات کا ریکارڈ بھی تحقیقات کا حصہ بن گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق میر رضا علی نے 28 جولائی کی شب 3 ٹیلی فون کالز کے ذریعے 2 مختلف افراد سے رابطہ کیا، میر رضا نے رات 2 بج کر 13 منٹ اور 2 بج کر 16 منٹ پر علی نامی شخص سے بات کی جب کہ میر رضا نے آخری فون کال اپنے دوست عبداللہ کی ریسیو کی اور دونوں کے درمیان 3 منٹ سے زائد بات چیت جاری رہی۔
تحقیقاتی ریکارڈ کے مطابق تفتیش کے دوران میر رضا کے موبائل فون پر آنے والے آخری 8 پیغامات کی تفصیلات بھی حاصل کرلی گئی ہیں، یہ پیغامات رات 4 بج کر 20 منٹ سے 4 بج کر 22 منٹ کے دوران موصول ہوئے تاہم میر رضا نے ان پیغامات کا کوئی جواب نہیں دیا۔
تفتیشی ٹیم نے میر رضا سے آخری فون کال پر بات کرنے والے افراد اور آخری پیغامات بھیجنے والے افراد سے بھی تفتیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
قبر کشائی اور ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کی روشنی میں فیروز آباد تھانے میں درج اغوا کے مقدمے میں قتل عمد کی دفعہ 302 شامل کر دی گئی ہے جب کہ اس سے قبل مقدمہ صرف دفعہ 365 کے تحت درج تھا۔
میر رضا کیس کی نئی تحقیقاتی کمیٹی کا اجلاس کل ہوگا
دوسری جانب میر رضا علی قتل کیس میں پیش رفت کے بعد آئی جی سندھ آفس کی جانب سے تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی نئی تحقیقاتی کمیٹی کا اجلاس کل بروز پیر کو ہوگا۔ ڈی آئی جی کرائم اینڈ انویسٹی گیشن عامر فاروقی ٹیم کی سربراہی کریں گے جب کہ ایس ایس پی سید محمد علی رضا، ایس پی قیس خان، ایس پی انعم تجمل اور انسپکٹر چوہدری غضنفر بھی ٹیم کا حصہ ہیں۔
ذرائع کے مطابق نئی تحقیقاتی کمیٹی کیس کی جامع اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کرے گی اور تمام متعلقہ پہلوؤں سے دوبارہ چھان بین کرے گی، نئے اور اضافی شواہد کی نشاندہی، انہیں جمع اور محفوظ کر کے ان کا جائزہ لے گی جب کہ تحقیقاتی ٹیم کیس سے متعلق تمام فزیکل، ٹیکنیکل، واقعاتی اور فرانزک شواہد کا تفصیلی تجزیہ کرے گی۔
تحقیقاتی کمیٹی کو کیس حل کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرنے کی ہدایت کر دی گئی جب کہ کمیٹی مقررہ مدت کے اندر متعلقہ عدالت میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی اور معاونت کے لیے ضرورت پڑنے پر کسی بھی افسر کو شامل کر سکے گی۔ میر رضا علی کیس کی تحقیقات میں پیشرفت کی روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ دی جائے گی۔
ذرائع نے بتایا کہ نئی تحقیقاتی کمیٹی پہلے پوسٹ مارٹم کرنے والے میڈیکل بورڈ سے بھی بیانات لے گی، بورڈ میں شامل ڈاکٹرز اور ماہرین کا باقاعدہ انٹرویو کیا جائے گا، اس ٹیم کو باقاعدہ سوالنامہ بھی دیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق تحقیقاتی کمیٹی معلوم کرے گی کہ گولی کو سینے سے داخل اور پیٹھ سے خارج قرار دینے کی بنیاد کیا تھی؟ پہلی رپورٹ میں فرانزک شواہد کو فائل کرنے کے اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا۔ تفتیشی ٹیم دونوں پوسٹ مارٹم رپورٹس، زخموں، کپڑوں و دیگر فرانزک شواہد کا جائزہ لے گی۔
میر رضا قتل کیس کا نوٹس
ادھر سندھ اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے بھی میر رضا علی قتل کیس کا نوٹس لیتے ہوئے چیئرپرسن فریال تالپور نے وزیراعلیٰ سندھ سے شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن قائم کرنے کی سفارش کرتے ہوئے ذمہ دار عناصر کو قانون کے مطابق جوابدہ بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔












