سینچری بنانے کا خواب ادھورا رہ گیا، 54 بچوں کے والد انتقال کر گئے

عبدالمجید مینگل کا انتقال دل کا دورہ پڑنے سے ہوا۔
شائع 14 دسمبر 2022 05:51pm
تصویر بزریعہ سی این این 18 نیوز
تصویر بزریعہ سی این این 18 نیوز

پاکستان کا سب سے بڑا کنبہ رکھنے والے عبدالمجید مینگل انتقال کر گئے۔ 54 بچوں کے والد نے بلوچستان کے شہر نوشکی میں اپنی آخری سانس لی۔

پچھتر سالہ عبدالمجید مینگل کا انتقال دل کا دورہ پڑنے سے ہوا۔

نوشکی پاکستان کے جنوب مغربی شہر کوئٹہ سے 130 کلومیٹر مغرب میں واقع ہے۔

عبدالمجید مینگل نے چھ خواتین سے شادی کی تھی جن میں سے دو وفات پاچکی ہیں اور چار حیات ہیں۔

انہیں منگل کے روز علاج کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال نوشکی ٹرانسفر کیا گیا تھا۔ تاہم اسپتال پہنچنے سے پہلے ہی وہ خالق حقیقی سے جاملے۔

حاجی عبدالمجید مینگل کُل 54 بچوں کے والد ہیں، جن میں سے 12 بچے غذائی قلت کے باعث فوت ہوچکے ہیں۔ اس وقت ان کے 42 بچے حیات ہیں۔

 تصویر بشکریہ کشمیر مانیٹر
تصویر بشکریہ کشمیر مانیٹر

مرحوم عبدالمجید کے بچوں میں 22 لڑکے اور 20 لڑکیاں ہیں۔

مرحوم کا وسیع ترین خاندان 2017 میں قومی مردم شماری شروع ہونے پر روشنی میں آیا۔

مردم شماری کے اہلکار مینگل کے خاندان کے افراد کی تعداد دیکھ کر حیران رہ گئے تھے۔

اس وقت عبدلامجید نے کہا تھا کہ وہ 100 بچوں کے باپ بننا چاہتے ہیں۔

اس سے قبل جان محمد نامی شخص کوئٹہ میں 36 بچوں کے باپ تھے۔

18 سال کی عمر میں پہلی شادی

عبدالمجید مینگل پیشے کے اعتبار سے ٹرک ڈرائیور تھے۔ انہوں نے اپنی پہلی بیوی سے اس وقت شادی کی جب وہ صرف 18 سال کے تھے اور بعد میں انہوں نے پانچ دوسری عورتوں سے شادی کی۔

نجی چینل سے بات کرتے ہوئے انہوں نے ایک بار کہا تھا، ’میں نے بہت محنت کی اور اپنے بڑے بیٹوں کو اچھی تعلیم دی۔ لیکن اب میں بوڑھا ہو گیا ہوں، یہ چیزیں میرے ہاتھ سے نکل چکی ہیں۔‘

مالی تنگدستی

عبدالمجید نے کہا تھا کہ انہوں نے ساری زندگی ٹرک ڈرائیور کے طور پر کام کیا۔ ان کے پاس ہمیشہ پیسے کی کمی رہتی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے بچوں کو کافی دودھ نہیں مل رہا تھا اور ان کے پاس پیسے نہیں تھے اس لیے وہ مر گئے۔ ایک بیوی بچے کے ساتھ انتقال کر گئی وہ بیمار تھی۔

عبدالمجید نے کہا کہ وہ بے بس اور لاچار تھے۔