یہ فلم کی شوٹنگ نہیں بلکہ حقیقی نظارہ ہے
فرانس میں پولیس کے ہاتھوں نوجوان کے قتل کیخلاف دوسرے روز بھی احتجاج کا سلسلہ جاری رہا۔
فرانس میں ایک روز قبل پولیس کی فائرنگ سے 17 سالہ ڈرائیور ہلاک ہوگیا تھا، ”نائل“ نامی نوجوان کو اس وقت گولی مار دی گئی تھی جب اس نے پولیس کے اشارے پر رکنے سے انکار کیا اور گاڑی دوڑا دی۔

واقعہ کے خلاف پُرتشدد مظاہروں کا سلسلہ دوسرے روز بھی جاری رہا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق فرانس کے شہر تولوز سمیت کئی شہروں میں مظاہرین کی پولیس سے جھڑپیں ہوئیں، مشتعل افراد نے فورسز پر حملے کیے اور کئی گاڑیوں کو آگ لگا دی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مشتعل مظاہرین نے ٹاؤن ہال اور اسکولوں سمیت پولیس اسٹیشن اور گاڑیوں سمیت دیگر املاک کو آگ لگائی۔ پولیس نے بھی جواب میں لاٹھی چارج کیا۔ توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کے الزام میں کم از کم 150 افراد کو گرفتار کر لیا۔
فرانسیسی صدر میکرون نے ملکی صورتحال پر سینیر وزرا کا اجلاس طلب کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ پولیس کے ہاتھوں نوجوان کی ہلاکت ناقابل معافی ہے لیکن پرتشدد احتجاج بھی بلاجواز ہے۔
دوسری جانب فرانسیسی وزیر داخلہ نے دوسری رات کو ہونے والے مظاہرے پر ردعمل دیتے ہوئے اسے ”جمہوریہ کی علامتوں کے خلاف ناقابل برداشت تشدد کی رات“ قرار دیا۔
یاد رہے کہ پیرس کے مضافاتی علاقے میں 17 سالہ لڑکے کو قتل کرنے والے فرانسیسی پولیس افسر کو رضا کارانہ قتل کے الزام میں باضابطہ تحقیقات کے دائرے میں رکھا گیا ہے، لیکن اس کے باوجود عوام نے ہلاک نوجوان کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے مارچ کی منصوبہ بندی کی اور پولیس کے روکنے پر احتجاج شدت اختیار کرگیا۔

مقامی رہائشی خاتون کا بھی کہنا ہے کہ پولیس اہلکاروں نے نوجوان پر سیدھی گولیاں برسائیں۔
میڈیا میں شائع رپورٹس کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ فرانس میں 2017 کے بعد سے ٹریفک اسٹاپس پر پولیس کے ہاتھوں ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر سیاہ فام یا عرب تھے۔
















اس کہانی پر تبصرے بند ہیں۔