Aaj News

پیر, مارچ 04, 2024  
23 Shaban 1445  

غزہ : اسرائیل کا امریکی بنکرز بموں سے گنجان آباد علاقوں پر حملہ

کھلے علاقوں میں استعمال ہونیوالے بنکرز بموں سے لامحدود تباہی ہوتی ہے
اپ ڈیٹ 02 دسمبر 2023 03:36pm
تصویر — اے ایف پی/فائل
تصویر — اے ایف پی/فائل

اسرائیل کا تباہ کن امریکی بنکرز بم فلسطینی گنجان آباد علاقوں میں استعمال کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔

بنکرز بم کھلے علاقوں میں استعمال ہوتے ہیں اور بے انتہا تباہی پھیلاتے ہیں، ہر ایک بم کا وزن 907 کلو ہے، گنجان علاقوں میں ان بموں کے پھٹنے سے لامحدود تباہی ہوتی ہے۔

امریکا نے اب تک اسرائیل کو 100 بنکرز بم فراہم کیے ہیں، الجزیرہ نے وال اسٹریٹ جرنل میں شائع رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیل کو بنکرز بموں کی فراہمی سے واشنگٹن کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔

امریکا یہ بم افغانستان، عراق اور شام میں استعمال کرچکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیل کو 15 ہزار بم اور 57 ہزار آرٹلری شیل فراہم کیے جارہے ہیں اور بنکرز بم اسی ڈیل کا ایک حصہ ہیں۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے جبالیہ کیمپ پر حملے میں اسی بم کو استعمال کیا تھا، جس میں 100 سے زائد افراد شہید ہوئے تھے۔

اس سے قبل اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ میں جاری 7 روزہ جنگ بندی ختم ہوتے ہی اسرائیلی فوج نے غزہ پر وحشیانہ حملے شروع کردیے گزشتہ 24 گھنٹےمیں 178 فلسطینی شہید ہوگئے۔

اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ میں جنگ بندی کا آغاز 24 نومبر سے ہوا تھا جس میں 2 مرتبہ توسیع ہوئی اور جمعہ کی صبح جنگ بندی کا وقت ختم ہوگیا جس میں کوئی توسیع نہیں کی گئی۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ حماس نے مزید یرغمالیوں کی رہائی کے لیے نام فراہم نہیں کیے جس کے باعث جنگ بندی میں توسیع نہیں ہوئی۔

فلسطینی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ غزہ میں7 روز کی جنگ بندی ختم ہونے کے بعد اسرائیلی طیاروں نے غزہ پر فضائی حملے شروع کردیے۔

فلسطینی میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج نے خان یونس کےمشرقی علاقے پر بمباری کی اور غزہ کےمغربی علاقے میں بھی بمباری کی جارہی ہے جبکہ غزہ پر اسرائیلی جاسوس طیارے نچلی پروازیں کررہے ہیں۔

فلسطینی میڈیا کا کہنا ہےکہ اسرائیلی فوج نے شمالی غزہ کے علاقے جبالیہ میں گھر کو نشانہ بنایا ہے جبکہ غزہ کے مختلف علاقوں میں شدید جھڑپیں جاری ہیں۔

فلسطینی وزارت صحت نے اسرائیلی فضائیہ کی غزہ پربمباری سے کم ازکم 175 فلسطینی شہریوں کے شہید ہونے کی تصدیق کی ہے جس میں بچے بھی شامل ہیں جبکہ اسرائیلی حملوں میں درجنوں فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔

اسرائیلی فضائی حملوں میں خان یونس میں ایک گھر کو نشانہ بنایا گیا اور ملحقہ عمارتوں کو نقصان پہنچا جس کے نتیجے میں متعدد افراد ملبے تلے دب گئے۔

رفح بارڈر کراسنگ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں کی وجہ سے انتہائی ضروری امداد لے جانے والے ٹرکوں کا داخلی راستہ بند ہو گیا ہے۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ جنوبی علاقے نیریم میں مارٹر حملے کے نتیجے میں اس کی سکیورٹی فورسز کے 5 اہلکار زخمی ہو گئے ہیں۔

لبنانی مسلح گروپ حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اس نے سرحد پر ایک فوجی پوزیشن کے قریب ”مناسب ہتھیاروں سے“ اسرائیلی فوجیوں کو نشانہ بنایا۔

تل ابیب کو راکٹ حملے کا نشانہ بنایا گیا، حماس

گروپ کے مسلح ونگ قاسم بریگیڈ نے اسرائیل کے سب سے بڑے شہر پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے جہاں آج فضائی حملوں کے سائرن بج رہے ہیں۔

اسرائیل اور فلسطینی اسلامی گروپ حماس کے درمیان عارضی جنگ بندی ختم ہونے کے بعد غزہ کی پٹی سے داغے گئے راکٹوں کے نشانات آسمان میں نظر آرہے ہیں، جیسا کہ یکم دسمبر کو جنوبی اسرائیل سے دیکھا گیا۔

القدس بریگیڈ: ہم نے اسرائیل پر بمباری دوبارہ شروع کر دی ہے

فلسطینی اسلامی جہاد کے مسلح ونگ نے اپنے ٹیلی گرام چینل پر کہا ہے کہ اس نے کسفیم کبوتز کو 107 راکٹوں سے نشانہ بنایا ہے۔

اس سے قبل اسرائیلی فوج نے غزہ سٹی، خان یونس، جبالیہ، نوصائرت اور بوریج کیمپ میں بم برسائے اور توپوں سے گولے باری کی، حملوں کے بعد اسپتالوں میں زخمیوں کا تانتا بندھ گیا۔

اسرائیلی فوجی ترجمان کا کہنا ہے کہ کہ 200 اہداف کو نشانہ بنایا گیا، مختلف علاقوں میں حماس کے جنگجوؤں اور اسرائیلی فورسز کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔

اسرائیلی فوج نے طیاروں سے پرچیاں گرا کر خان یونس بھی خالی کرنے کی دھمکی دے دی۔

شمالی غزہ سے ایک بار پھر فلسطینیوں کی نقل مکانی شروع ہوگئی ہے، اس بار پیدل چلنے والوں کی نسبت گاڑیوں میں جانے والوں کی تعداد زیادہ ہے۔

یروشلم میں اسرائیلی فوجی نماز جمع کے لیے مسجد اقصیٰ جانے والے فلسطینیوں کو روکتے رہے تاہم 3 ہزار کے قریب لوگوں نے مسجد اقصیٰ کے اندر اور باہر کی سڑکوں پر نماز جمع ادا کی۔

یونیسیف کے جیمس ایلڈر نے صورتحال کو تشویش ناک قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے جنگ بندی میں اضافہ کرانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ایسا نہ کرنا بچوں کو قتل کرنے کی اجازت دینے کے مترادف ہے۔

یاد رہے کہ 24 نومبر کو قطر اور مصر کی ثالثی میں اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ میں عارضی جنگ بندی کا معاہدہ ہوا تھا، ایک ہفتے کی عارضی جنگ بندی کے دوران حماس نے 100 سے زائد قیدیوں جبکہ اسرائیل نے 240 فلسطینیوں کو رہا کیا تھا۔

اکتوبر 7 سے غزہ پر اسرائیلی حملوں میں اب تک 15 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جبکہ امریکا نے غزہ پر حملوں کے لیے اسرائیل کی مکمل حمایت جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

Israel

Palestine

Gaza

Hamas

Israel Palestine conflict

Palestinian Israeli Conflict

ISRAEL PALESTINE TIMELINE

Israel Hamas war

Gaza War

Israel Hamas Agreement

Comments are closed on this story.

تبصرے

تبولا

Taboola ads will show in this div