سردیوں میں سینے پر وزن یا دباؤ محسوس ہو تو اسے نظر انداز نہ کریں
سردیوں میں سینے میں بھاری پن یا دباؤ کا عام طور پر سبب سردی سمجھا جاتا ہے، لیکن ماہرین صحت خبردار کرتے ہیں کہ یہ علامت پھیپھڑوں، دل یا ذہنی دباؤ سے جڑے مسائل کی نشاندہی بھی کر سکتی ہے۔
جیسے جیسے موسم سرما میں سردی کی شدت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے، سینے میں بھاری پن یا دباؤ کی شکایات بڑھ جاتی ہیں۔ لوگ اسے سینے پر وزن، تناؤ یا سختی کے طور پر محسوس کرتے ہیں اور اکثر گہری سانس لینے میں بھی مشکل ہوتی ہے۔
زیادہ تر لوگ اسے صرف سردی کا اثر سمجھتے ہیں، لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ یہ علامت محض موسم کی وجہ سے نہیں ہوتی اور اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ سردیوں میں خشک اور سرد ہوا، بڑھتی ہوئی آلودگی اور سانس کی بیماریوں میں اضافہ، سب مل کر سینے کی تکلیف بڑھا سکتے ہیں۔
سینے میں بھاری پن ہمیشہ پھیپھڑوں کی وجہ سے نہیں ہوتا۔ یہ دل کی بیماری، ذہنی دباؤ یا انزائٹی، سینے کے پٹھوں میں کھچاؤ یا ہاضمے کے مسائل جیسے ایسڈ ریفلکس کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔
دنیا بھر میں دل اور پھیپھڑوں کی بیماریوں کی وجہ سے لوگ بیمار ہوتے ہیں اور سینے پر دباؤ بعض اوقات خطرے کی ابتدائی نشانی بھی ہو سکتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق سردیوں میں انفیکشنز اور فضائی آلودگی زیادہ ہو جاتی ہیں، جس سے کمزور افراد پر زیادہ اثر پڑتا ہے۔
سینے میں بھاری پن کیوں ہوتا ہے، کون زیادہ متاثر ہو سکتا ہے اور کب ڈاکٹر سے رابطہ کرنا ضروری ہے، یہ جاننا بہت اہم ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وقت پر پہچان اور علاج سنگین مسائل سے بچا سکتا ہے اور صحت بہتر رکھتا ہے۔
سینے میں بھاری پن ہمیشہ پھیپھڑوں کی بیماریوں کی وجہ سے نہیں ہوتا۔ ماہرین کے مطابق یہ علامات ذہنی دباؤ یا انزائٹی، پھیپھڑوں کی حالت جیسے دمہ یا نمونیا یا دل کے مسائل جیسے اینجائنا اور دل کے دورے کی وجہ سے بھی پیدا ہو سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ، سینے کے پٹھوں میں کھچاؤ یا عضلاتی درد، اور ہاضمے کے مسائل جیسے ایسڈ ریفلکس یا ہاضمے کی خرابی بھی یہی احساس پیدا کر سکتے ہیں۔
امریکہ کے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونشن (سی ڈی سی) کے مطابق، انزائٹی اور پینک اٹیک بھی سینے کی تنگی اور سانس لینے میں دشواری پیدا کر سکتے ہیں، جو اکثر دل یا پھیپھڑوں کی بیماری کی علامات سے ملتی جلتی ہیں۔ اسی طرح عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) بتاتا ہے کہ آئسکیمک ہارٹ ڈیزیز میں بجائے تیز درد کےاکثر سینے پر دباؤ محسوس ہوتا ہے ، خاص طور پر بزرگ افراد میں۔
کچھ گروہ سردیوں میں سینے میں بھاری پن کے زیادہ شکار ہوتے ہیں۔ماہرین صحت کے مطابق، دمہ، دل کی بیماری یا بلند فشار خون کے مریض اس وقت زیادہ خطرے میں ہوتے ہیں۔
عمر رسیدہ افراد کی پھیپھڑوں کی کارکردگی قدرتی طور پر کم ہو جاتی ہے، جبکہ سگریٹ نوش افراد بھی حساس ہو جاتے ہیں، کیونکہ سگریٹ پھیپھڑوں کو سرد ہوا اور آلودگی سے نمٹنے کی صلاحیت کم کر دیتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت بھی بزرگ افراد، دائمی بیماریوں کے شکار اور زیادہ آلودگی والے علاقوں میں رہنے والوں کو سردیوں میں سانس کی بیماریوں کے لیے زیادہ خطرناک گروپ قرار دیتا ہے۔
اگر سینے میں بھاری پن کے ساتھ سانس لینے میں دشواری، چکر آنا، بازو، گردن یا جبڑے میں درد، زیادہ پسینہ آنا، یا متلی محسوس ہو تو فوری طبی مدد ضروری ہے۔
یہ علامات بعض اوقات دل کے دورے یا شدید سانس کی بیماری کی نشاندہی کر سکتی ہیں، جس کے لیے فوری تشخیص اورعلاج اہم ہے۔
سردیوں میں سینے کے بھاری پن کو کم کرنے کے طریقے
کچھ آسان تدابیر سے سینے میں دباؤ کو کم کیا جا سکتا ہے۔
غذائی ماہرین کے نزدیک زیادہ پانی پینا بلغم کو پتلا کرتا ہے اور ہیومیڈیفائر کے ذریعے خشک ہوا میں نمی پیدا کرنا مددگار ثابت ہوتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت بھی پانی کی مناسب مقدار اور صاف ہوا کے ماحول کو برقرار رکھنے کی سفارش کرتا ہے تاکہ پھیپھڑوں کی صحت محفوظ رہے۔
مزید راحت کے لیے بھاپ لینا، گرم کمپریس استعمال کرنا، آہستہ اور گہری سانسیں لینا اور سوتے وقت سر کو اونچا رکھنا مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ دائمی بیماریوں والے افراد کو اپنی مقررہ دوائیں اور انہیلرز استعمال کرتے رہنا چاہیے اور اچانک سرد ہوا یا زیادہ محنت سے بچنا چاہیے۔
ڈاکٹرزاس بات پر زور دیتے ہیں کہ سردیوں میں سینے کا بھاری پن صرف سردی کی وجہ سے نہیں ہوتا؛ یہ پھیپھڑوں، دل، ذہن یا ہاضمے سے متعلق کوئی مسئلہ بھی ہو سکتا ہے۔
اگر علامات مستقل یا شدید ہوں تو فوری ڈاکٹر سے رجوع کرنا ضروری ہے تاکہ اصل وجہ معلوم ہو اور محفوظ اور مؤثر علاج ممکن ہو سکے۔
















