ایران میں احتجاج کے دوران 8 افراد ہلاک، اقوامِ متحدہ کا اظہار تشویش
ایران میں مہنگائی اور معاشی دباؤ کے خلاف جاری ملک گیر مظاہروں کے دوران ہلاکتوں پر اقوام متحدہ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایرانی حکام پر زور دیا ہے کہ وہ اظہارِ رائے اور پرامن احتجاج کے بنیادی حقوق کا احترام کریں۔
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی خصوصی نمائندہ مائی ساتو نے ایران میں حالیہ مظاہروں کے دوران آٹھ مظاہرین کی ہلاکت پر تشویش ظاہر کی ہے۔
بی بی سی کے مطابق اقوام متحدہ کی نمائندہ مائی ساتو کا کہنا ہے کہ ایران میں ملک گیر مظاہرے چھٹے روز میں داخل ہو چکے ہیں اور اقوام متحدہ صورتِ حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
ان کے مطابق موصول ہونے والی اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں میں اضافہ ہوا ہے۔
مائی ساتو نے ایرانی حکام پر زور دیا کہ وہ اظہارِ رائے کی آزادی اور پرامن اجتماع کے حق کا احترام کریں اور مظاہرین کے خلاف ضرورت سے زیادہ طاقت کے استعمال سے گریز کریں۔
اقوام متحدہ کی نمائندہ نے اپنے بیان میں کہا کہ آزادی کی تحریک کے دوران ماضی میں دیکھے گئے پرتشدد ردِعمل کو نہیں دہرایا جانا چاہیے، اور لوگوں کو انتقامی کارروائیوں کے خوف کے بغیر اپنے اختلاف کا اظہار کرنے اور پرامن احتجاج میں حصہ لینے کا موقع ملنا چاہیے۔
دوسری جانب اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندے امیر سعید ایرانی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر کو فوری خط ارسال کیا ہے، جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات کو مداخلت پسند قرار دیا گیا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ کی دھمکیاں ایران کے خلاف مسلسل دباؤ اور مداخلت کے ایک واضح نمونے کی عکاس ہیں، جنہیں ایرانی عوام کی حمایت کے بہانے جاری رکھا جا رہا ہے۔
ایران کے نمائندے نے واضح کیا کہ ایسی دھمکیاں، چاہے کسی بھی سیاسی جواز کے تحت دی جائیں، بین الاقوامی قانون کے تحت مکمل طور پر ممنوع ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ بیرونی دباؤ یا فوجی مداخلت کے بہانے اندرونی بدامنی کو بھڑکانے یا اسے قانونی حیثیت دینے کی کوئی بھی کوشش اسلامی جمہوریہ ایران کی خودمختاری، سیاسی آزادی اور علاقائی سالمیت کی سنگین خلاف ورزی ہوگی۔
واضح رہے کہ ایران میں مہنگائی کے خلاف کئی روز سے جاری مظاہروں کے تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو خبردار کیا تھا کہ اگر ایران پرامن مظاہرین کو قتل کرے گا تو امریکا ان کی مدد کے لیے آگے بڑھے گا۔ اس بیان پر ردِعمل دیتے ہوئے ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے اسے ایران کے اندرونی معاملات میں براہِ راست مداخلت قرار دیا تھا۔














