یوکرینی صدر نے انٹیلی جنس چیف کو صدارتی انتظامیہ کا سربراہ بنا دیا

یہ عہدہ پہلے سویلین شخصیات کے پاس ہوتا تھا جو ملک کی داخلی سلامتی پر توجہ مرکوز رکھتے تھے
شائع 03 جنوری 2026 02:02pm

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے ملک کی دفاعی اور سفارتی حکمتِ عملی کو مضبوط بنانے کے لیے ملٹری انٹیلی جنس کے سربراہ کیریلو بودانوف کو مشیر اعلیٰ اور صدارتی چیف آف اسٹاف مقرر کر دیا ہے جسے یوکرین میں ایک اہم اور غیر معمولی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔

صدر ولادیمیر زیلنسکی نے یوکرینی ملٹری کی خفیہ ایجنسی کے سربراہ کیریلو بودانوف کو صدارتی انتظامیہ کا سربراہ مقرر کیا، جب کہ ڈرون ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل اصلاحات کے ماہر میخائل فیڈوروف کو وزیرِ دفاع بنانے کی تجویز پیش کی ہے۔

یہ تقرریاں ایسے وقت میں کی گئی ہیں جب کیف امریکا کی ثالثی میں روس کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق نئے مقرر ہونے والے چیف آف اسٹاف کیریلو بودانوف ملک کے اعزاز یافتہ جنگی ہیرو ہیں اور اس عہدے پر ان کی تقرری ایک نمایاں تبدیلی سمجھی جا رہی ہے۔

یہ عہدہ روایتی طور پر کسی سویلین شخصیت کے پاس ہوتا تھا جس کی توجہ زیادہ تر داخلی سیاست پر مرکوز رہتی تھی۔

صدر زیلنسکی کی جانب سے میخائل فیڈوروف کو وزیرِ دفاع نامزد کرنا بھی یوکرین کی جنگی حکمتِ عملی میں ڈرونز اور جدید ٹیکنالوجی کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ فیڈوروف اس سے قبل پہلے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔

نئے چیف آف اسٹاف کیریلو بودانوف نے صدر زیلنسکی کے قریبی ساتھی اینڈری یرماک کی جگہ لی ہے جنہوں نے نومبر میں کرپشن اسکینڈل کے بعد استعفیٰ دے دیا تھا۔ یرماک ایک بااثر مگر متنازع شخصیت سمجھے جاتے تھے اور ان کے خلاف الزامات نے روس کے ساتھ جاری جنگ کے دوران عوامی غصے کو ہوا دی۔

صدر زیلنسکی نے امید ظاہر کی ہے کہ نئی تقرریوں سے ان کی قیادت اور ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد بحال ہوگا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب روس کی مسلسل پیش قدمی جاری ہے اور امریکا یوکرین پر جنگ کے جلد خاتمے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان دیتے ہوئے صدر زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین کو سکیورٹی، فوج اور سفارت کاری پر مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ’کیریلو‘ ان شعبوں میں تجربہ کار ہیں اور نتائج دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔

واضح رہے کہ کیریلو بودانوف نے اپنے کیریئر کا آغاز اسپیشل فورسز کے اہلکار کے طور پر کیا تھا۔

روس کے کریمیا پر قبضے اور اس کے حمایت یافتہ عناصر کی جانب سے مشرقی علاقوں پر کنٹرول کے وقت انہوں نے مشرقی یوکرین میں بھی خدمات انجام دیں۔ وہ تین مرتبہ زخمی بھی ہو چکے ہیں اور متعدد قاتلانہ حملوں میں بچ نکلے ہیں۔

ان سے پہلے اس عہدے پر رہنے والے اینڈری یرماک کو اثر و رسوخ کے باعث یوکرین کا ’گرے کارڈینل‘ کہا جاتا تھا۔ انہوں نے 28 نومبر کو اس وقت استعفیٰ دیا جب انسدادِ بدعنوانی حکام نے ان کے گھر پر چھاپہ مارا۔

ان پر توانائی کے شعبے میں مبینہ 100 ملین ڈالر کی رشوت کا الزام ہے جس میں صدر زیلنسکی کے سابق کاروباری شراکت دار اور اعلیٰ حکام کے ملوث ہونے کے معاملے پر بھی تحقیقات جاری ہیں۔

صدر زیلنسکی نے عندیہ دیا ہے کہ آئندہ دنوں میں حکومتی ڈھانچے میں مزید تبدیلیاں بھی متوقع ہیں۔

russia

Vladimir Putin

United States

Ukraine

Ukraine peace plan

Vlodimir Zelensky