بنگلادیش کے ورلڈ کپ میچز بھارت سے منتقل کرنے کی درخواست پر بھارتی بورڈ کا بیان آگیا
بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان کرکٹ سے متعلق کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے، بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 کے میچز بھارت سے سری لنکا منتقل کرنے کی درخواست پر بھارتی کرکٹ بورڈ نے رد عمل دیتے ہوئے اس درخواست کو سختی سے مسترد کردیا ہے۔
مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل سے خارج کیے جانے کے بعد بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 میں بنگلہ دیش کے لیگ میچز بھارت سے نکال کر سری لنکا منتقل کرنے کی درخواست کرے کیونکہ فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کے آئی پی ایل سے ریلیز کیے جانے کے بعد کھلاڑیوں کی حفاظت کے بارے میں خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
شاہ رخ خان کی آئی پی ایل فرنچائز کولکتہ نائٹ رائیڈرز (کے کے آر) نے بی سی سی آئی کی ہدایت پر مستفیض الرحمان کو اسکواڈ سے خارج کیا تھا۔ انہیں پچھلے مہینے ابوظہبی میں ہونے والی نیلامی میں 9.20 کروڑ بھارتی روپے میں خریدا گیا تھا۔
ٹی 20 ورلڈ کپ کے لیے بنگلادیش کے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان
بی سی بی کے صدر اور سابق کپتان امین الاسلام نے اس واقعے کے بعد ایمرجنسی بورڈ میٹنگ کے بعد کوئی عوامی بیان جاری نہیں کیا۔ تاہم بنگلہ دیش کے کھیلوں کے مشیر آصف نذرو ل نے کہا کہ انہوں نے بورڈ کو ہدایت دی ہے کہ وہ آئی سی سی کو باضابطہ طور پر درخواست بھیجے کہ بنگلہ دیش کے چار لیگ میچز سری لنکا میں کرائے جائیں۔
آصف نذرو ل نے اپنے فیس بک پیج پر لکھا کہ بورڈ کو واضح کرنا چاہیے کہ اگر ایک بنگلہ دیشی کھلاڑی، جو معاہدے کے تحت بھارت میں کھیلنے کا اہل ہے، وہاں محفوظ نہیں تو قومی ٹیم بھی بھارت میں میچ کھیلنے کے دوران محفوظ محسوس نہیں کر سکتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ بورڈ کو باضابطہ طور پر درخواست دینی چاہیے کہ بنگلہ دیش کے ورلڈ کپ میچز سری لنکا میں ہوں۔
شیڈول کے مطابق بنگلہ دیش ٹیم کو گروپ مرحلے میں 7 فروری کو ویسٹ انڈیز، 9 فروری کو اٹلی اور 14 فروری کو انگلینڈ کے خلاف کولکتہ کے ایڈن گارڈنز میں میچز کھیلنا ہیں جب کہ 17 فروری کو نیپال کے خلاف آخری گروپ میچ ممبئی کے وانکھیڈے اسٹیڈیم میں شیڈول ہے۔
دوسری جانب بھارتی کرکٹ بورڈ کے ایک سینئر عہدیدار نے بنگلہ دیش کے مطالبے کو ناقابلِ عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ صرف ایک ماہ باقی رہ جانے کے بعد میچز کا مقام تبدیل کرنا “تقریباً ناممکن” ہے، کسی کی خواہش پر میچز نہیں بدل سکتے، یہ لاجسٹک طور پر بہت مشکل ہے۔
بی سی سی آئی ذرائع نے کہا کہ ٹیموں کے ہوائی ٹکٹ اور ہوٹل بک ہو چکے ہیں، براڈکاسٹ عملہ بھی موجود ہے، اس لیے یہ کہنا آسان ہے لیکن کرنا مشکل ہے۔
ادھر بنگلہ دیش کے مشیر آصف نذرل نے آئی پی ایل کی بنگلہ دیش میں نشریات معطل کرنے کی درخواست بھی کی ہے اور کہا ہے کہ بنگلہ دیشی کرکٹ اور کرکٹرز کی توہین برداشت نہیں کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق آئی سی سی اس معاملے پر غور کر رہی ہے تاہم ٹورنامنٹ کے آغاز میں چند ہفتے باقی ہونے کے باعث حتمی فیصلہ اہم تصور کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ بھارت نے گزشتہ چیمپئنز ٹرافی میں پاکستان آنے سے انکار کردیا تھا جس کے بعد دونوں ممالک کے میچز نیوٹرل وینیو پر کرانے کا معاہدہ ہوا تھا، پاکستان اس طے شدہ معاہدے کے تحت اپنے ورلڈ کپ میچز سری لنکا میں کھیلے گا۔
















