صدر ٹرمپ گرین لینڈ کو ’دھمکیاں‘ دینا بند کریں، وزیر اعظم ڈنمارک

تاریخی اتحادی کے خلاف امریکی دھمکیاں ناقابل قبول، گرین لینڈ فروخت کے لیے نہیں، میٹے فریڈرکسن
اپ ڈیٹ 05 جنوری 2026 01:43pm

ڈنمارک کی وزیراعظم میٹے فریڈرکسن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ گرین لینڈ پر قبضے یا دھمکی آمیز بیانات دینا بند کریں۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کو ڈنمارک یا گرین لینڈ پر قابو پانے کا کوئی حق حاصل نہیں اور قریبی اتحادی کے خلاف ایسی دھمکیاں ناقابل قبول ہیں۔

خلیج ٹائمز کے مطابق ڈنمارک کی وزیراعظم میٹے فریڈرکسن نے واضح کیا کہ گرین لینڈ اور اس کے عوام فروخت کے لیے نہیں ہیں اور کسی بھی ملک کے لیے انہیں ضم کرنے کی بات بے معنی ہے۔

ان کا کہنا تھا، ’امریکا کو ایک تاریخی اتحادی کے خلاف دھمکیاں بند کرنی چاہئیں۔‘

یہ بیان وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی اور صدر ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا کہ امریکہ وینزویلا کے معاملات مستقل طور پر سنبھالے گا۔

ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’ہمیں گرین لینڈ کی ضرورت ہے، دفاع کے لیے، معدنیات کے لیے نہیں۔‘

ٹرمپ کی سابق معاون کیٹی ملر نے بعد میں گرین لینڈ کی تصویر امریکی پرچم کے رنگوں میں شیئر کی اور کیپشن لکھا ’SOON‘، جس پر گرین لینڈ کے وزیر اعظم جینز فریڈرک نلسن نے اسے ’غیر احترام آمیز‘ قرار دیا اور کہا کہ ’قوموں کے تعلقات باہمی احترام اور بین الاقوامی قوانین پر مبنی ہوتے ہیں، نہ کہ علامتی اشاروں پر جو ہمارے حقوق کو نظرانداز کریں۔‘

انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ’پریشانی یا خوف کی ضرورت نہیں، ہمارا ملک فروخت کے لیے نہیں اور ہمارا مستقبل سوشل میڈیا پوسٹس سے طے نہیں ہوتا۔‘

ڈنمارک کے امریکی سفیر جیسر مولر سیرنسن نے کیٹی ملر کی پوسٹ پر دوستانہ انداز میں یاد دلایا کہ ان کا ملک آرکٹک میں سیکیورٹی کی کوششیں بڑھا چکا ہے اور واشنگٹن کے ساتھ تعاون جاری ہے۔

وزیر اعظم فریڈرکسن نے زور دیا کہ امریکہ کو اپنے تاریخی اتحادی کی عزت کرنی چاہیے اور گرین لینڈ پر کوئی دھمکی آمیز یا قابضانہ بیانات نہیں دینے چاہئیں۔

US President

Denmark

threats

GREENLAND

Mette Frederiksen