حکومت کا اسلام آباد کو 3 ٹاؤن کارپوریشنز میں تقسیم کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے اسلام آباد کو 3 ٹاؤن کارپوریشنز میں تقسیم کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، نئے بلدیاتی نظام کے تحت اسلام آباد میں 3 میئر اور 6 نائب میئر ہوں گے۔
پیر کو وفاقی حکومت نے اسلام آباد میں بلدیاتی نظام میں بڑی تبدیلی کا فیصلہ کرتے ہوئے وفاقی دارالحکومت کو 3 ٹاؤن کارپوریشنز میں تقسیم کرنے کی تیاری مکمل کرلی ہے، جس کے تحت ہر ٹاؤن میں الگ میئر اور نائب میئرز تعینات کیے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق نئے بلدیاتی نظام کے تحت اسلام آباد میں 3 میئر اور 6 نائب میئر ہوں گے جب کہ اسلام آباد میں بلدیاتی نظام پنجاب ماڈل پر تشکیل دینے کی منظوری دے دی گئی جب کہ ہر ٹاؤن کارپوریشن میں ایک میئر اور 2 نائب میئر تعینات کیے جائیں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ میئر اور نائب میئرز کا انتخاب براہِ راست عوام نہیں کریں گے بلکہ یونین کونسل کے چیئرمین بالواسطہ طور پر میئر اور نائب میئرز کا انتخاب کریں گے۔ اس فیصلے کے تحت اسلام آباد میں موجودہ میٹروپولیٹن کارپوریشن کے نظام کو ختم کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ بلدیاتی ترامیم کی منظوری دے چکی ہے جب کہ اس حوالے سے صدارتی آرڈیننس جاری کیے جانے کا امکان ہے۔ مجوزہ منصوبے کے تحت اسلام آباد کو قومی اسمبلی کے 3 حلقوں کی بنیاد پر 3 ٹاؤنز میں تقسیم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق ٹاؤن کارپوریشنز کو انتظامی اور مالی خودمختاری دینے کی بھی تجویز شامل ہے جب کہ کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے متعدد اختیارات مرحلہ وار ٹاؤن کارپوریشنز کو منتقل کیے جائیں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے نظام کے تحت میئرز کو صفائی، نکاسیٔ آب اور ترقیاتی منصوبوں سے متعلق اختیارات حاصل ہوں گے جب کہ بلدیاتی سطح پر انتظامی امور کو مزید مؤثر بنانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔













