گرین لینڈ پر امریکی حملے کا مطلب نیٹو کا خاتمہ ہوگا: وزیراعظم ڈنمارک
ڈنمارک کی وزیراعظم میٹے فریڈرکسن نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے کسی نیٹو اتحادی ملک پر حملہ کیا تو نہ صرف نیٹو اتحاد کا خاتمہ ہو جائے گا بلکہ دوسری عالمی جنگ کے بعد قائم ہونے والا عالمی سیکیورٹی نظام بھی ختم ہو جائے گا۔
برطانوی اخبار دی گارجین کی رپورٹ کے مطابق ڈنمارک کے ٹیلی وژن نیٹ ورک ٹی وی 2 سے گفتگو کرتے ہوئے فریڈرکسن نے کہا کہ اگر امریکہ نے کسی دوسرے نیٹو ملک پر فوجی حملہ کرنے کا فیصلہ کیا تو نیٹو اتحاد اور اس کے ساتھ دوسری عالمی جنگ کے بعد قائم ہونے والا سیکیورٹی نظام رُک جائے گا۔
میٹے فریڈرکسن کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت گرین لینڈ پر کسی بھی ممکنہ حملے کو روکنے کے لیے ہر ممکن اقدام کر رہی ہے اور انہوں نے امریکہ پر ناقابلِ قبول دباؤ ڈالنے کا الزام عائد کیا۔ وزیراعظم میٹے فریڈرکسن نے اس صورتحال کو عالمی برادری پر غیر معقول حملہ قرار دیا۔
فریڈرکسن کے بیانات سے قبل گرین لینڈ کے وزیرِاعظم جینز فریڈرک نیلسن نے بھی ایک سخت بیان جاری کرتے ہوئے صدر ٹرمپ سے الحاق کے خیالات کو ترک اور امریکہ کی زبان کو مکمل طور پر ناقابلِ قبول قرار دیا گیا تھا۔
سوشل میڈیا پر جاری بیان میں جینز فریڈرک نیلسن نے کہا تھا کہ امریکی دھمکیوں، دباؤ اور الحاق کی باتوں کی دوستوں کے درمیان کوئی گنجائش نہیں۔ ان کے مطابق اس طرح اس قوم سے بات نہیں کی جاتی جس نے بارہا ذمہ داری، استحکام اور وفاداری کا مظاہرہ کیا ہو۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر گرین لینڈ پر قبضے کی دھمکی دی ہے۔
وینزویلا میں فوجی کارروائی کے بعد اتوار کو صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکہ کو گرین لینڈ کی اشد ضرورت ہے، جس کے بعد اس خدشے نے دوبارہ جنم لیا ہے کہ امریکہ اس خودمختار جزیرے پر فوجی قبضہ کر سکتا ہے۔
گرین لینڈ ڈنمارک کی سابق نوآبادی ہے اور اب بھی ڈنمارک کی سلطنت کا حصہ ہے، جبکہ اس کی خارجہ اور سکیورٹی پالیسی بدستور کوپن ہیگن کے کنٹرول میں ہے۔
خیال رہے کہ برطانیہ اور فرانس نے گرین لینڈ پر امریکی قبضے کی دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ اس خطے کے مستقبل کا فیصلہ وہاں کے عوام اور ڈنمارک کی حکومت کا حق ہے۔
برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر نے ایک بیان میں کہا تھا کہ گرین لینڈ کے معاملے پر برطانیہ ڈنمارک کے ساتھ کھڑا ہے اور کسی بھی قسم کے دباؤ یا دھمکی کو درست نہیں سمجھتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حساس معاملات میں بین الاقوامی قوانین اور عوامی رائے کا احترام ضروری ہے۔
فرانس نے بھی گرین لینڈ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ سرحدیں طاقت کے ذریعے تبدیل نہیں کی جا سکتیں۔
فرانسیسی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ گرین لینڈ وہاں کے عوام کا ہے اور کسی بھی ملک کو زبردستی حدود بدلنے کا حق حاصل نہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وینزویلا کے معاملے میں عالمی قوانین کا احترام نہیں کیا گیا اور سلامتی کونسل کے مستقل اراکین، جن میں فرانس بھی شامل ہے، کی ذمہ داری ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزیوں کی مذمت کریں، جس کی فرانس کھل کر مخالفت کرتا ہے۔
گزشتہ روز ڈنمارک کی وزیراعظم میٹے فریڈرکسن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ گرین لینڈ پر قبضے یا دھمکی آمیز بیانات دینا بند کریں۔
انہوں نے کہا تھا کہ امریکہ کو نہ تو ڈنمارک اور نہ ہی گرین لینڈ پر قابو پانے کا کوئی حق حاصل ہے اور قریبی اتحادی کے خلاف اس طرح کی باتیں ناقابل قبول ہیں۔
وزیراعظم فریڈرکسن نے واضح کیا کہ گرین لینڈ اور اس کے عوام فروخت کے لیے نہیں ہیں اور کسی بھی ملک کے لیے انہیں ضم کرنے کی بات بے معنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کو ایک تاریخی اتحادی کے خلاف دھمکیاں نہیں دینی چاہئیں۔
یہ بیانات اس پس منظر میں سامنے آئے ہیں جب وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی کے بعد صدر ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ امریکہ وینزویلا کے معاملات مستقل طور پر سنبھالے گا۔ اسی دوران صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا تھا کہ امریکہ کو گرین لینڈ دفاعی وجوہات کی بنا پر درکار ہے، نہ کہ معدنی وسائل کے لیے۔
اس معاملے پر اس وقت مزید بحث شروع ہوئی جب صدر ٹرمپ کی سابق معاون کیٹی ملر نے گرین لینڈ کی ایک تصویر امریکی پرچم کے رنگوں میں سوشل میڈیا پر شیئر کی اور اس کے ساتھ ’SOON‘ کا کیپشن لکھا۔
اس پر گرین لینڈ کے وزیراعظم جینز فریڈرک نلسن نے ردعمل دیتے ہوئے اسے توہین آمیز قرار دیا اور کہا کہ قوموں کے تعلقات باہمی احترام اور بین الاقوامی قوانین پر مبنی ہوتے ہیں، نہ کہ ایسے علامتی اشاروں پر جو کسی قوم کے حقوق کو نظرانداز کریں۔
انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ پریشانی یا خوف کی ضرورت نہیں، گرین لینڈ فروخت کے لیے نہیں اور اس کا مستقبل سوشل میڈیا پوسٹس سے طے نہیں ہوگا۔
ڈنمارک کے امریکہ میں سفیر جیسر مولر سیرنسن نے بھی اس بحث پر ردعمل دیتے ہوئے دوستانہ انداز میں یاد دلایا کہ ڈنمارک آرکٹک خطے میں سیکیورٹی کی کوششیں بڑھا چکا ہے اور واشنگٹن کے ساتھ تعاون جاری رکھے ہوئے ہے۔
مجموعی طور پر یورپی ممالک کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آیا ہے کہ گرین لینڈ کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ طاقت یا دباؤ کے بجائے بین الاقوامی قوانین اور عوامی حق خود ارادیت کے مطابق ہونا چاہیے۔











