گلگت: نگراں وزرا اور مشیروں نے اپنے عہدوں کا حلف اٹھا لیا
گلگت میں نگراں وزرا اور مشیروں نے اپنے عہدوں کا باقاعدہ حلف اٹھا لیا ہے۔ اس موقع پر اسپیکر نے گورنر ہاؤس گلگت میں نگران کابینہ کے ارکان سے حلف لیا۔
حلف برداری کی تقریب میں نگراں وزیراعلیٰ گلگت بلتستان جسٹس ریٹائرڈ یار محمد بھی موجود تھے اور انہوں نے کابینہ کے ارکان کو اپنے عہدوں کی ذمہ داریوں کی اہمیت سے آگاہ کیا۔
تقریب میں سیکرٹریز، آئی جی پولیس اداروں کے آفسران اور عمائدین علاقہ نے بھی شرکت کی۔
حلف برداری کی تقریب آج صبح 11 بجے گورنر ہاوس گلگت میں منعقد ہوئی۔ جی بی کی 14 رکنی نگران کابینہ 12 وزراء اور خاتون سمیت 2 مشیروں پر مشتمل ہے۔
اس سے قبل کے نگران وزیراعلی جسٹس ریٹائرڈ یار محمد نے26 نومبر کو اپنے عہدے کا حلف اٹھایا تھا۔
دوسری جانب گلگت بلتستان میں نگراں کابینہ کے ارکان کو حلف اٹھانے سے قبل ہی محکمے الاٹ کر دیے گئے۔ نگران کابینہ کے ارکان کو محکمے تفویض کرنے کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا۔
جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق گلگت سے تعلق رکھنے والے ساجد علی بیگ کو محکمہ داخلہ اور جیل خانہ جات کی ذمہ داریاں سونپی گئی، جبکہ غلام عباس کو اطلاعات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کا قلمدان دیا گیا۔ کرنل (ر) ابرار اسماعیل کو خزانہ، منصوبہ بندی اور ترقیات کے اہم محکمے تفویض کیے گئے۔
اسی طرح انجینئر الطاف حسین کو بلدیات اور دیہی ترقی کا محکمہ دیا گیا، مہرداد کو خوراک جبکہ مولانا سرور شاہ کو معدنیات اور انڈسٹریز کے محکمے الاٹ کیے گئے۔نوٹیفکیشن کے مطابق مولانا شرافت دین کو جنگلات، جنگلی حیات اور ماحولیات کی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں، جبکہ سید عدیل شاہ کو اسپورٹس، کلچر اور یوتھ افیئرز کا قلمدان دیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق انجینئر ممتاز حسین کو پانی و بجلی، بہادر علی کو تعلیم اور قانون، ڈاکٹر نیاز علی کو صحت جبکہ راجہ شہباز خان کو سیاحت، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اور ورکس و مواصلات کے محکمے تفویض کیے گئے ہیں۔
چودہ رکنی نگران کابینہ میں مشیر کی حیثیت سے شامل واحد خاتون سیدہ فاطمہ کو سوشل ویلفیئر، پاپولیشن اور خواتین کی ترقی کی وزارت دی گئی ہے۔
اسی طرح نگران کابینہ میں مشیر کے طور پر شامل عبدالحکیم کو زراعت، لائیو اسٹاک، فشریز اور واٹر مینجمنٹ کے محکموں کی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔

















