وینزویلا کے تیل سے متعلق ٹرمپ کا نیا منصوبہ

وینزویلا کے عبوری حکمران امریکا کو 5 کروڑ بیرل تیل فراہم کریں گے: صدر ٹرمپ
اپ ڈیٹ 07 جنوری 2026 10:42am

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وینزویلا امریکا کو 30 سے 50 ملین بیرل ذخیرہ شدہ تیل فراہم کرے گا۔ صدر ٹرمپ کے مطابق یہ وہ تیل ہے جو واشنگٹن کی جانب سے وینزویلا کی برآمدات پر عائد پابندیوں کے باعث ذخیرہ کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ تیل مارکیٹ ریٹ پر فروخت کیا جائے گا اور اس سے حاصل ہونے والی آمدن ان کے کنٹرول میں ہوگی تاکہ یہ رقم امریکا اور وینزویلا کے عوام کے فائدے کے لیے استعمال کی جا سکے۔

صدر ٹرمپ نے منگل کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری بیان میں کہا کہ انہوں نے امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ کو ہدایت دی ہے کہ اس منصوبے پر فوری عمل درآمد کیا جائے۔

اُن کے مطابق تیل کو ذخیرہ بردار جہازوں کے ذریعے امریکا منتقل کیا جائے گا اور اسے براہ راست امریکی بندرگاہوں پر اتارا جائے گا۔

صدر ٹرمپ کے بیان کے بعد میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ وینزویلا سے آنے والا تیل امریکا کی مختلف ریفائنریز کو فروخت کیا جائے گا، جس سے امریکی توانائی کے شعبے کو فائدہ پہنچنے کی توقع کی جا رہی ہے۔

صدر ٹرمپ پہلے بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ وینزویلا کے تیل کے ذخائر ”واپس لینے“ اور لاطینی امریکی ملک کی کمزور ہوتی توانائی کی صنعت کو بحال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

تاہم بین الاقوامی قانون کے تحت امریکا کا وینزویلا کے تیل پر کوئی ملکیتی حق نہیں بنتا۔

ماضی میں وینزویلا کے سابق صدر ہیوگو شاویز نے نیشنلائزیشن پالیسی کے تحت امریکی کمپنیوں کی بعض جائیدادیں ضبط کی تھیں، جس کے اثرات آج بھی سرمایہ کاری کے فیصلوں پر نظر آتے ہیں۔

عالمی توانائی منڈی کے تناظر میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر تیس سے پچاس ملین بیرل تیل عالمی سپلائی میں شامل بھی ہو جائے تو یہ اضافہ محدود نوعیت کا ہوگا۔ دنیا میں یومیہ تیل کی کھپت ایک سو ملین بیرل سے زائد ہے جبکہ صرف امریکا ہی روزانہ تقریباً چودہ ملین بیرل تیل پیدا کرتا ہے۔

توانائی کے ماہر مارک فنلے کے مطابق اصل اہمیت اس بات پر منحصر ہے کہ یہ تیل کس مدت میں فراہم کیا جائے گا، کیونکہ ایک مہینے میں اتنی مقدار وینزویلا کی تقریباً مکمل پیداوار کے برابر ہو سکتی ہے جبکہ ایک سال میں یہ مقدار نسبتاً کم سمجھی جائے گی۔

واشنگٹن یونیورسٹی کے توانائی امور کے ماہر اسکاٹ مونٹگمری کا کہنا ہے کہ تیل کی آمدن پر کنٹرول سے متعلق صدر ٹرمپ کے بیانات نے مزید سوالات کو جنم دیا ہے، کیونکہ امریکا میں اس نوعیت کے انتظام کی کوئی واضح مثال موجود نہیں۔

ماہرین کے مطابق وینزویلا کی تیل کی پیداوار کو اس کی نوے کی دہائی کی سطح، یعنی روزانہ تین ملین بیرل کے قریب لانے کے لیے بھاری سرمایہ کاری درکار ہوگی اور اس عمل میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔

ناروے کی کنسلٹنسی رائسٹاد انرجی کے اندازے کے مطابق وینزویلا کو روزانہ دو ملین بیرل پیداوار تک پہنچنے کے لیے کم از کم ایک سو دس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہوگی۔

اس کے علاوہ ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ تیل کے ذخائر کی موجودہ حالت کو سمجھنے کے لیے وسیع سائنسی اور انجینئرنگ تحقیق ضروری ہے کیونکہ وقت کے ساتھ ان ذخائر کی خصوصیات بدل چکی ہیں۔

اگرچہ امریکی تیل کمپنیاں وینزویلا میں ممکنہ سرمایہ کاری پر بات چیت کے لیے تیار دکھائی دیتی ہیں، تاہم کچھ تجزیہ کار ماضی میں اثاثوں کی ضبطی اور عالمی منڈی میں تیل کی اضافی فراہمی کے باعث محتاط رویے کی توقع کر رہے ہیں۔

اس وقت شیورون واحد بڑی امریکی کمپنی ہے جو وینزویلا میں کام کر رہی ہے اور اس کی پیداوار تقریباً ایک لاکھ پچاس ہزار بیرل یومیہ ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق توقع ہے کہ امریکی ریفائنریز کے سربراہان جمعرات کو وائٹ ہاؤس کا دورہ کریں گے، جہاں وینزویلا میں سرمایہ کاری اور تیل کی خرید و فروخت سے متعلق معاملات پر بات چیت کی جا سکتی ہے۔

ایک وقت میں دنیا کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شمار ہونے والا وینزویلا آج امریکی پابندیوں، طویل عرصے کی کم سرمایہ کاری، بدانتظامی اور کرپشن کے باعث شدید زوال کا شکار ہے۔

اگرچہ اس کے پاس دنیا کے سب سے بڑے معلوم تیل کے ذخائر موجود ہیں، مگر اس کی موجودہ پیداوار عالمی سپلائی کے ایک فیصد سے بھی کم رہ گئی ہے۔

Donald Trump

VENEZUELA

President Donald Trump

Venezuela Oil

Venezuela Interim Government