گراؤنڈ طیاروں کے فاضل پرزے فروخت نہ کرنے سے پی آئی اے کو ساڑھے 8 ارب روپے کا نقصان

پی آئی اے کے چھ طیارے اڑان کے قابل نہیں، ریٹائرڈ طیارے بھی خریدار کے حوالے کیے جا چکے: پی آئی اے حکام
شائع 07 جنوری 2026 03:26pm

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کو گراؤنڈ طیاروں کے اسپئیر پارٹس بروقت فروخت نہ کرنے کے باعث مجموعی طور پر آٹھ ارب 56 کروڑ روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

بدھ کو اسلام آباد میں سید نوید قمر کی زیر صدارت پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز سے متعلق آڈٹ رپورٹ 2023-24 سمیت متعدد اہم مالی اور انتظامی امور زیر غور آئے۔

اجلاس میں پی آئی اے کے گراؤنڈ طیاروں اور ان کے اسپئیر پارٹس فروخت نہ کرنے سے ہونے والے نقصان، ادارے کی مالی صورتحال، نجکاری کے معاملات اور مختلف آڈٹ اعتراضات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

پی آئی اے حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ گراؤنڈ طیاروں کے اسپئیر پارٹس بروقت فروخت نہ کرنے کے باعث ادارے کو مجموعی طور پر آٹھ ارب چھپن کروڑ روپے کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

حکام کے مطابق اب تک تین اعشاریہ آٹھ ارب روپے مالیت کے اسپئیر پارٹس نیلام کیے جا چکے ہیں جبکہ باقی اسپئیر پارٹس پی آئی اے کے خریدار کو منتقل کر دیے گئے ہیں۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ اس وقت پی آئی اے کے چھ طیارے ایسے ہیں جو اڑان کے قابل نہیں، جبکہ ریٹائرڈ طیارے بھی خریدار کے حوالے کیے جا چکے ہیں۔ فروخت کیے گئے اثاثوں میں گراؤنڈ طیارے اور ان کے پرزے شامل ہیں۔

اجلاس کے دوران پی آئی اے کی دو جائیدادوں سے متعلق معاملہ بھی زیر بحث آیا جن سے سندھ حکومت سے دو ارب اکسٹھ کروڑ روپے وصولی ہونی تھی۔ پی آئی اے حکام نے بتایا کہ یہ دونوں جائیدادیں اب ہولڈنگ کمپنی کے سپرد کر دی گئی ہیں، جس کے بعد پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے اس حوالے سے آڈٹ اعتراض نمٹا دیا۔

کمیٹی نے وزارت دفاع کی آڈٹ رپورٹ پر بھی غور کیا جس میں ایئرپورٹس سیکیورٹی فورس میں خریداری کے دوران ایک کروڑ بیس لاکھ روپے کی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔

سیکرٹری دفاع نے آڈٹ حکام پر بلاجواز اعتراضات عائد کرنے کا الزام عائد کیا، تاہم چیئرمین پی اے سی سید نوید قمر نے کہا کہ اتنے بڑے فورم پر اس نوعیت کے الزامات لگانا مناسب نہیں۔

سیکرٹری دفاع نے اس موقع پر تسلیم کیا کہ اے ایس ایف فنڈ میں پے آرڈرز جمع نہیں ہونے چاہیے تھے اور یقین دہانی کرائی کہ آئندہ ایسا کوئی اقدام نہیں ہوگا۔

آڈٹ حکام نے بتایا کہ اے ایس ایف فنڈ کا آڈٹ نہیں کروایا جا رہا، جس پر سیکرٹری دفاع نے وضاحت کی کہ اے ایس ایف فاؤنڈیشن فنڈ میں قومی خزانے سے کوئی رقم شامل نہیں ہوتی۔ پی اے سی نے اس معاملے پر وزارت دفاع کو وزارت قانون سے رائے لینے کی ہدایت کی۔

اجلاس میں پی آئی اے کے ایک سو سڑسٹھ ارب روپے کے آڈٹ اعتراضات پر بھی غور کیا گیا۔

آڈٹ حکام نے بتایا کہ پی آئی اے نے ایک سو اکتیس ارب روپے کے ٹیکس اور ڈیوٹیز ادا نہیں کیں۔

سیکرٹری دفاع کے مطابق نجکاری کے لیے ان میں سے ایک سو پندرہ ارب روپے ہولڈنگ کمپنی کے ذمے ہیں جبکہ پی آئی اے کے مجموعی واجبات، جو چھ سو اٹھاسی ارب روپے بنتے ہیں، وہ بھی ہولڈنگ کمپنی کے ذمے ڈالے گئے ہیں۔

اس پر چیئرمین پی اے سی نے سوال اٹھایا کہ ہولڈنگ کمپنی یہ بھاری ادائیگیاں کیسے کرے گی، جس پر سیکرٹری دفاع نے بتایا کہ وزارت خزانہ نے فی الحال اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔

اجلاس میں رکن کمیٹی شاہدہ بیگم نے پی آئی اے کے مالی انتظامات کو انتہائی ناقص قرار دیا۔

پی آئی اے حکام نے بتایا کہ مالی بدانتظامی کے الزامات پر کئی افسران کو ملازمت سے نکالا جا چکا ہے۔

آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ آٹھ طیارے گراؤنڈ کرنے سے پی آئی اے کو اکیس ارب روپے کا نقصان ہوا جبکہ آڈٹ رپورٹ کے مطابق طیاروں کی مرمت پر چوالیس دن سے لے کر چھ سو باون دن تک کا وقت لگا۔

پی اے سی ارکان نے سوال کیا کہ ایک طیارے کی مرمت میں چھ سو باون اور دوسرے میں دو سو انتالیس دن کیوں لگے۔

اس پر پی آئی اے حکام نے وضاحت دی کہ کورونا کے دور میں مرمت کے عمل میں غیر معمولی تاخیر ہوئی، تاہم ان کے مطابق طیاروں کی طویل مدت میں مرمت سے ادارے کو کوئی اضافی مالی نقصان نہیں ہوا۔