امریکہ کا ویزا بانڈ کیا ہے اور کن مسافروں پر لاگو ہوگا؟

ویزا بانڈ پروگرام میں کون سے ممالک شامل ہیں اور کتنی رقم ادا کرنی پڑے گی؟
اپ ڈیٹ 08 جنوری 2026 02:37pm
علامتی تصویر: اے آئی
علامتی تصویر: اے آئی

امریکی حکومت نے ویزا پالیسی میں ایک نیا قدم اٹھاتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ 38 ممالک کے شہریوں کو امریکہ میں داخلے سے پہلے ایک مخصوص رقم بطور ’ویزا بانڈ‘ جمع کرانا ہوگی۔ یہ فیصلہ ٹرمپ انتظامیہ کی سخت امیگریشن پالیسی کا حصہ ہے، جس کا مقصد ویزا شرائط کی خلاف ورزیوں، خاص طور پر مقررہ مدت سے زیادہ قیام کو روکنا ہے۔ حالیہ فہرست میں 25 نئے ممالک کو شامل کیا گیا ہے، جبکہ اس سے قبل بھی کچھ ممالک پر یہ شرط لاگو کی جا چکی تھی۔

یہ بارہ ماہ پر مشتمل پائلٹ پروگرام 20 اگست سے شروع ہوا اور اس کا اطلاق بزنس ویزا ’بی ون‘ اور سیاحتی ’ویزا بی ٹو‘ پر ہوگا۔ نئے شامل ہونے والے بیشتر ممالک پر یہ شرط 21 جنوری سے نافذ ہوگی، اگرچہ چند ممالک کے لیے تاریخ مختلف رکھی گئی ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق یہ پروگرام ان ممالک کے شہریوں پر لاگو کیا جا رہا ہے جن کے بارے میں سرکاری اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہاں سے آنے والے مسافروں میں ویزا مدت ختم ہونے کے بعد امریکہ میں غیرقانونی طور پر رک جانے کا رجحان نسبتاً زیادہ ہے۔

ویزا اوور اسٹے کی شرح کا تعین امریکی محکمہ داخلی سلامتی کے اعداد و شمار کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، خاص طور پر بی ون اور بی ٹو ویزا کی کیٹیگری کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ سن 2000 کے بعد سے ہر سال لاکھوں غیر ملکی ویزا پر امریکہ میں داخل ہوتے ہیں، مگر ان میں سے ہزاروں افراد مقررہ وقت پر واپس نہیں جاتے۔

محکمہ داخلی سلامتی کی ایک رپورٹ کے مطابق مالی سال 2023 میں تقریباً 39 کروڑ غیر ملکیوں کو امریکہ سے روانہ ہونا تھا، لیکن اندازاً چار لاکھ افراد ویزا کی مدت ختم ہونے کے باوجود وہیں موجود رہے۔

ماہرین کے مطابق امریکہ میں غیرقانونی طور پر مقیم افراد کی بڑی تعداد ایسے ہی ویزا اوور اسٹے کرنے والوں پر مشتمل ہے۔

ویزا بانڈ کیا ہے؟

ویزا بانڈ دراصل ایک مالی ضمانت ہے، جس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ مسافر ویزا کی شرائط پر عمل کرے اور مقررہ مدت میں ملک چھوڑ دے۔ اگر مسافر تمام شرائط پوری کرتا ہے تو یہ رقم بعد میں واپس کر دی جائے گی۔

دنیا کے زیادہ تر ممالک ویزا کے لیے مالی حیثیت کا ثبوت تو مانگتے ہیں، لیکن قابل واپسی بانڈ کا نظام کم ہی نظر آتا ہے۔

ماضی میں نیوزی لینڈ اور برطانیہ نے ایسے تجربات کیے، مگر بعد میں انہیں ختم کر دیا گیا۔

ٹرمپ نے اپنے پہلے دور صدارت میں بھی ویزا بانڈ متعارف کرانے کی کوشش کی تھی، تاہم کووڈ وبا کے باعث یہ منصوبہ عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔

اس پروگرام کی قانونی بنیاد امریکی امیگریشن اینڈ نیشنلٹی ایکٹ کی ایک شق اور ایک عارضی حتمی قانون پر رکھی گئی ہے، جس میں بانڈ کی شرائط واضح کی گئی ہیں۔

بانڈ کی رقم پانچ ہزار، دس ہزار یا پندرہ ہزار امریکی ڈالر ہو سکتی ہے۔ یہ رقم ویزا انٹرویو کے دوران قونصلر افسر طے کرے گا، جو درخواست گزار کے سفر کے مقصد، ملازمت، آمدن، تعلیمی پس منظر اور مجموعی حالات کو دیکھے گا۔

کچھ مخصوص صورتوں میں، جیسے امریکی حکومت کے سرکاری کام یا ہنگامی انسانی بنیادوں پر سفر کو اس شرط سے مستثنیٰ کیا جا سکتا ہے۔

بانڈ جمع کرانے کے لیے درخواست گزار کو محکمہ داخلی سلامتی کا مخصوص فارم جمع کرانا ہوتا ہے اور ادائیگی امریکی حکومت کے سرکاری آن لائن نظام کے ذریعے کی جاتی ہے۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ کسی تیسرے فریق کی ویب سائٹ یا غیر سرکاری ذریعے سے ادائیگی کی صورت میں رقم کی ذمہ داری امریکی حکومت پر نہیں ہوگی۔ اگر کسی نے قونصلر افسر کی ہدایت کے بغیر بانڈ جمع کرا دیا تو وہ رقم واپس نہیں کی جائے گی۔

اس کے ساتھ یہ بات بھی واضح کی گئی ہے کہ بانڈ جمع کرانے سے ویزا ملنے کی ضمانت نہیں ہوتی۔

اس پروگرام کے تحت بانڈ ادا کرنے والے مسافروں کو امریکہ میں داخلے اور واپسی کے لیے صرف تین مخصوص ہوائی اڈے استعمال کرنے ہوں گے، جن میں بوسٹن، نیویارک کا جے ایف کے اور واشنگٹن ڈیلس ایئرپورٹ شامل ہیں۔

کسی اور مقام سے داخلے یا روانگی کی صورت میں مسائل پیدا ہو سکتے ہیں اور روانگی کا ریکارڈ درست طور پر درج نہ ہونے کا خدشہ بھی ہوتا ہے۔

اگر مسافر مقررہ تاریخ سے پہلے یا عین وقت پر امریکہ چھوڑ دیتا ہے اور اس کی روانگی سرکاری نظام میں درج ہو جاتی ہے تو بانڈ خود بخود منسوخ ہو جاتا ہے اور رقم واپس کر دی جاتی ہے۔

اسی طرح اگر ویزا ختم ہونے سے پہلے مسافر امریکہ کا سفر ہی نہ کرے یا داخلے کے وقت اجازت نہ ملے تو بھی بانڈ واپس ہو جاتا ہے۔

اس کے برعکس اگر مسافر مقررہ مدت سے زیادہ قیام کرے، ویزا کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش کرے یا پناہ کی درخواست دے تو اسے بانڈ کی خلاف ورزی سمجھا جا سکتا ہے اور اس رقم کی واپسی ممکن نہیں رہتی۔

مجموعی طور پر ویزا بانڈ کا مقصد امریکی امیگریشن نظام کو مزید سخت اور منظم بنانا ہے۔

خاص طور پر ان ممالک کے شہریوں کے لیے یہ ایک واضح پیغام ہے کہ مستقبل میں ویزا کے معاملے میں مالی ذمہ داری اور قوانین کی پابندی کو زیادہ اہمیت دی جائے گی۔

ماہرین کے مطابق مسافروں کے لیے سب سے محفوظ راستہ یہی ہے کہ وہ ویزا کی تمام شرائط پر عمل کریں، مقررہ وقت پر واپس جائیں اور کسی غیر سرکاری یا مشکوک ادائیگی کے طریقے سے مکمل طور پر اجتناب کریں۔

ویزا بانڈ پروگرام میں شامل ممالک

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق 21 جنوری 2026 سے بنگلہ دیش، الجزائر، انگولا، اینٹیگوا، باربوڈا، بینن، برونڈی، کیپ وردے، آئیوری کوسٹ، کیوبا، جبوتی، ڈومینیکا، فجی، گیبون، کرغزستان، نیپال، نائیجیریا، سینیگال، تاجکستان، ٹوگو، ٹونگا، تووالو، یوگنڈا، وانواتو، وینزویلا اور زمبابوے پر ویزا بانڈز کا آغاز ہوگا۔

اسی طرح بھوٹان، بوٹسوانا، نمیبیا، وسطی افریقی جمہوریہ، گنی، گنی بساؤ، ترکمانستان میں یکم جنوری 2026 سے ویزا بانڈ کی وصولی اک عمل شروع ہوچکا ہے۔

ان کے علاوہ، 20 اگست 2025 سے مالی اور زیمبیا، 11 اکتوبر 2025 سے گیمبیا، 23 اکتوبر سے موریطانیہ، ساؤ ٹومے، پرنسپے اور تنزانیہ پر بھی یہ ویزا شرائط لاگو ہوچکی ہیں۔

United States

US Visa Bond

What is Visa Bond