پی ٹی آئی کا دہشت گردی کے خاتمے کا مطالبہ، دہشت گردوں کی حمایت سے انکار
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے دہشت گردی کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے دہشت گردوں کی حمایت سے انکار کردیا ہے۔ پی ٹی آئی قیادت نے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کو قومی فریضہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف ایک بیانیہ ضروری ہے، امید ہے اب پی ٹی آئی پر بے بنیاد الزامات نہیں لگائے جائیں گے۔
جمعرات کو پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں سلمان اکرم راجہ اور اسد قیصر کے ہمراہ اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے پوئے پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی نے ہمیشہ دہشت گردی کے واقعات کی مذمت کی ہے، ہمارا موقف واضع ہے، دہشت گردی ایک ناسور ہے اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکنا لازم ہے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ دہشت گردوں کا پی ٹی آئی سے تعلق جوڑنا افسوسناک ہے، نیشنل ایکشن پلان کے 14 نکات پر عملدرآمد ناگزیر ہے، دہشت گردی کا کوئی مذہب یا قومیت نہیں ہوتی اور یہ کہنا کہ دہشت گرد پی ٹی آئی کو نشانہ کیوں نہیں بناتے ایک نامناسب اور خطرناک بیان ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ خیبرپختونخوا میں امن کے قیام کے لیے ریاست کو صوبائی حکومت کے ساتھ ایک میز پر بیٹھنا ہوگا، گولہ بارود چلانے سے صوبے میں امن نہیں آسکتا۔
پی ٹی آئی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پی ٹی آئی یا بانی پی ٹی آئی عمران خان کو دہشت گردوں کا سہولت کار کہنا افسوسناک ہے، خیبرپختونخوا میں ہونے والے جرگے میں تمام جماعتوں نے اتفاق کیا کہ گولہ بارود سے امن قائم نہیں ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کھڑے ہیں، لوگوں کو بے گھرنہیں دیکھنا چاہتے، ڈرون حملے اور عوامی مقامات پر کارروائیاں ناقابل قبول ہیں اور مسائل کا حل مذاکرات اور روزگار کی فراہمی ہے۔
اس موقع پر سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے کہا کہ پریس کانفرنس کسی کے خلاف نہیں بلکہ امن کے حق میں ہے، ہم اپنی فوج کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں، کے پی جرگے میں تمام سیاسی و سماجی طبقات نے شرکت کی اور متفقہ طور پر دہشت گردی کی مذمت کی گئی، صوبے کو اس کے مالی حقوق نہیں دیے جا رہے، پی ٹی آئی اتحاد اور عوام و اداروں کے درمیان خلیج ختم کرنے پر یقین رکھتی ہے۔
اسد قیصر نے وفاق کو خیبرپختونخوا اسمبلی کو اعتماد میں لے کر فیصلے کرنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام دہشت گردی کا خاتمہ چاہتے ہیں۔
تحریک انصاف کے رہنماؤں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی سمیت عوامی قیادت کو قید رکھ کر مذاکرات ممکن نہیں اور ملک میں دیرپا امن کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ بٹھانا ہوگا۔












