اسپیس میں خلاباز کی طبیعت خراب، عملے کی زمین پر واپسی کا فیصلہ
انٹرنیشنل اسپیس اسٹیشن میں خلاباز کی طبیعت ناساز ہوگئی جس کے باعث عملے کو زمین پر واپس لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
امریکی خلائی ادارے ناسا نے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن (آئی ایس ایس) پر موجود اپنے عملے کی غیر معمولی طور پر قبل از وقت واپسی پر غور شروع کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ عملے کے ایک رکن کو پیش آنے والے طبی مسئلے کے بعد کیا جا رہا ہے، جس کے باعث جمعرات کو طے شدہ اسپیس واک بھی منسوخ کر دی گئی۔
ناسا کے مطابق بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر موجود عملے کے ایک رکن کو بدھ کی سہ پہر ایک طبی مسئلہ درپیش آیا، جس کے بعد صورتحال کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔ ناسا کے ترجمان نے بتایا کہ مذکورہ طبی صورتحال ایک ہی خلاباز سے متعلق ہے اور اس وقت وہ مستحکم حالت میں ہے۔
ترجمان کے مطابق ناسا اس معاملے میں تمام ممکنہ آپشنز پر غور کر رہا ہے، جن میں کریو-11 مشن کو مقررہ وقت سے پہلے ختم کرنے کا امکان بھی شامل ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ خلابازوں کی حفاظت ناسا کی اولین ترجیح ہے اور ایسے حالات کے لیے ادارہ اور اس کے شراکت دار پہلے سے تربیت اور تیاری رکھتے ہیں۔ ناسا نے مزید کہا کہ آئندہ 24 گھنٹوں میں مزید تفصیلات فراہم کی جائیں گی۔
یاد رہے کہ جمعرات کو ایک 6.5 گھنٹے طویل اسپیس واک طے تھی، جس میں خلائی اسٹیشن کے کمانڈر مائیک فنکے اور فلائٹ انجینئر زینا کارڈمین کو اسٹیشن کے باہر نیا ہارڈویئر نصب کرنا تھا، تاہم طبی مسئلے کے باعث یہ اسپیس واک منسوخ کر دی گئی۔
کریو-11 میں چار خلاباز شامل ہیں جن میں امریکی خلاباز زینا کارڈمین اور مائیک فنکے، جاپانی خلاباز کیمیا یوئی اور روسی خلا باز اولیگ پلاٹونوف شامل ہیں۔ یہ عملہ اگست میں فلوریڈا سے روانہ ہوا تھا اور ان کی واپسی مئی میں متوقع تھی۔
عام طور پر خلاباز بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پر چھ سے آٹھ ماہ تک قیام کرتے ہیں، جہاں ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بنیادی طبی آلات اور ادویات موجود ہوتی ہیں۔ تاہم ناسا خلابازوں کی طبی حالت سے متعلق معلومات کو انتہائی خفیہ رکھتا ہے اور شاذ و نادر ہی ایسی تفصیلات عوام کے سامنے لائی جاتی ہیں۔
واضح رہے کہ اسپیس واک کو انتہائی مشکل اور خطرناک مشن تصور کیا جاتا ہے، جس کے لیے خلابازوں کو مہینوں تربیت دی جاتی ہے۔ اس سے قبل بھی ناسا مختلف وجوہات کی بنیاد پر اسپیس واکس منسوخ کر چکا ہے، جن میں 2024 میں خلائی لباس میں تکلیف اور 2021 میں ایک خلاباز کو اعصابی دباؤ کا مسئلہ شامل ہے۔
















